افسانہ نمبر 739 : حریف || مصنف: پی ۔پدمراجو || اردوترجمہ: حنظلہ خلیق الرحمٰن
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 739 : حریف (The Rivals)
مصنف: پی ۔پدمراجو
(تیلگو ، ہندوستان)
اردوترجمہ: حنظلہ
خلیق الرحمٰن
گوداوری اپنے جوبن پر تھی۔ اس کا مٹیالا پانی، جو دھوئیں کی مانند
گھومتی ہوئی لہروں میں لپٹا بہتا تھا، بڑے سے بڑے دلیر کو بھی خوف زدہ کر دینے کے
لیے کافی تھا۔ مگر دھوبی ایسے نہ تھے کہ اس ہیبت سے مرعوب ہو جائیں؛ وہ بے دھڑک
بیچ دھار میں اتر جاتے، بہتے ہوئے درختوں اور ٹہنیوں کو قابو میں لا کر کنارے تک
لے آتے۔ وہ طلوعِ سحر کے ساتھ ہی دریا میں اترتے اور شام ڈھلتے ڈھلتے کنارا لکڑیوں
اور شاخوں سے بھر جاتا۔
جب مرد بیچ دھار میں جا کر اپنی جرأت کا امتحان دیتے، تو عورتیں
کنارے پر کھڑی ہو کر کانٹے دار ڈنڈوں کی مدد سے بہتی لکڑیوں کو اپنی جانب کھینچنے
کی کوشش کرتیں۔ ان دنوں گوداوری گویا ایک ہنگامہ برپا کیے ہوئے تھی؛ پھولا ہوا
دریا پورے کے پورے جنگلات کو جڑ سے اکھاڑ کر اپنے ساتھ بہائے لیے جاتا، اور انسان
اس کے بہاؤ کو روک کر ان ٹکڑوں کو کنارے پر جمع کرنے کی تدبیر کرتا۔ یوں آدمی اپنی
فطرت پر بالادستی قائم رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا۔
یہ کام محض زورِ بازو
کا نہیں بلکہ خاص مہارت کا تقاضا کرتا تھا۔ جب کوئی شخص بیچ دھار میں کسی درخت کو
تھام لیتا، تو اسے قابو میں رکھنا ممکن نہ ہوتا، جب تک وہ خود کو دریا کے سپرد نہ
کر دے۔ اس فن میں ایک چیلنج پوشیدہ تھا، جو دھوبیوں کی مہارت کا پیمانہ بن جاتا۔
انہیں صرف ایندھن کی لالچ ہی آگے نہیں بڑھاتی تھی بلکہ اس کھیل کی عزت بھی ان کے
پیش نظر ہوتی؛ جو کامیاب ہوتا وہ دیوتا کہلاتا، اسی لیے وہ بھنوروں سے ٹکرا کر بھی
اپنی جانیں داؤ پر لگا دیتے۔
رامی ایک نہایت کٹھور اور جھگڑالو لڑکی تھی۔ ہر بات پر ہر ایک سے
الجھ پڑنا اس کی فطرت میں شامل تھا۔ سحر کی دھندلی روشنی میں وہ اپنے کانٹے دار
ڈنڈے کے ساتھ دریا کے کنارے جا پہنچتی، اور اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس دن اس حصے
میں کسی اور کا داخلہ ممنوع ہے۔ اگر کوئی جرأت کرتا، تو گویا وہ خود ہی جھگڑے کو
دعوت دیتا، کیونکہ رامی کی زبان خاصی تیز تھی۔ پولیس نے بھی دو ایک بار اسے
دھمکانے کی کوشش کی، مگر جب وہ اپنے معمول کے مطابق بھڑک اٹھی تو انہوں نے ہاتھ
کھینچ لیا۔ وہ یہ ماننے پر آمادہ نہ تھی کہ یہ بہتا دریا اس کی ملکیت ہے نہ درخت،
مگر کوئی وکیل بھی اسے اس بات پر قائل نہ کر سکا کہ دوسروں کو اس جگہ پر حق حاصل
ہے جہاں اس نے سب سے پہلے قدم رکھا ہو۔ حق و ناحق کی بحث اپنی جگہ، مگر لوگ اس کی
زبان کے خوف سے ہی پیچھے ہٹ جاتے، اور کوئی عورت اس کے مخصوص کنارے کے قریب آنے کی
ہمت نہ کرتی۔
وینکڈو ایک خوش مزاج اور زندہ دل نوجوان تھا، جو بآسانی جھگڑا مول
لے لیتا۔ دھوبی بستی کی بالغ لڑکیوں میں وہ سب کا چہیتا تھا اور ان کی نگاہ میں
ایک ہیرو کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے باپ اور رامی کے باپ کے درمیان مدت سے عداوت
چلی آ رہی تھی، یہاں تک کہ ایک بار وینکڈو کے باپ نے رامی کے گھر کو آگ بھی لگا دی
تھی۔ وینکڈو کی ایک جھلک ہی رامی کو طیش میں لانے کے لیے کافی تھی اور وہ اسے
کوسنے لگتی، مگر وہ اپنی فطری شرافت کے باعث ان باتوں کو زیادہ خاطر میں نہ لاتا۔
البتہ تمام لڑکیاں رامی سے سخت بیزار تھیں اور اسے حقارت سے “لڑکوں جیسی لڑکی” کہہ
کر پکارتی تھیں۔
وینکڈو کو خبر ملی کہ
رامی دریا کے کنارے سے تمام عورتوں کو ڈرا دھمکا کر بھگا دیتی ہے۔ ایک روز وہ خود
حالات کا جائزہ لینے وہاں پہنچا۔ رامی پوری انہماک سے ٹہنیاں سمیٹنے میں مصروف تھی
اور دو تین عورتیں کنارے پر کھڑی حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ وینکڈو
نے ایک کانٹے دار ڈنڈا اٹھا لیا۔
رامی فوراً بھڑک اٹھی، “او بدتمیز! ایک عورت سے مقابلہ کرنے آیا
ہے؟”
وینکڈو نے ہنستے ہوئے
کہا، “تو عورت ہے؟ مجھے تو خبر نہ تھی… زبان سنبھال کر بات کر، ورنہ تو بھی اور
تیرا یہ ڈنڈا بھی بیچ دھار میں جا پہنچو گے۔”
رامی نے تیور بدل کر
کہا، “یہ جگہ جہاں میں پہلے آ بسی، وہاں آنے کی تجھے شرم نہیں آئی؟”
وینکڈو نے لاپرواہی سے
جواب دیا، “کیا یہ کنارا تیرے باپ کی جاگیر ہے؟”
رامی بولی، “میں پہلے
آئی تھی۔”
وینکڈو مسکرایا، “اور
میں بعد میں آ گیا ہوں۔”
رامی جھنجلا کر بولی،
“ڈھیٹ کہیں کا، ایک عورت سے ٹکر لیتا ہے!”
وینکڈو نے نرمی سے کہا،
“اگر تو انصاف سے کام لے اور ذرا چپ رہے تو میں یہاں سے ہٹ جاتا ہوں۔”
رامی نے جھڑک دیا، “چپ
رہے میری بلا! میں تو اپنی ساری ٹہنیاں سمیٹ کر ہی جاؤں گی۔”
وینکڈو بولا، “اچھا، جو
تیرے ہاتھ سے باہر ہیں، وہ مجھے لینے دے۔”
رامی نے فوراً کہا،
“میرے ہاتھ سے باہر صرف وہ ہیں جو بیچ دھار میں ہیں!”
وینکڈو ہار مان کر واپس
جانے والا نہ تھا۔ اس نے اپنا بیڑا کنارے پر ڈال دیا اور کانٹے دار ڈنڈے سے ٹہنیوں
کو کھینچنے لگا۔
وہ سمجھ نہ پا رہا تھا کہ رامی کو کس طرح زیر کرے۔ اس کی عمر کی
دوسری لڑکیاں تو اس کے ایک اشارے پر ہی نرم پڑ جاتی تھیں، مگر یہی ایک تھی جو ڈٹی
ہوئی تھی۔ خاندانی عداوت کے باوجود اس نے کبھی کھلے عام اس کی توہین نہ کی تھی، نہ
کسی اور کی؛ مگر اب اسے کسی نہ کسی طرح قابو میں لانا ضروری تھا۔
کنارے سے ٹہنیاں سمیٹنے میں رامی وینکڈو پر سبقت لے گئی۔ وہ اس کے
ہاتھ کی مہارت اور انداز کی دلکشی کو حیرت سے دیکھتا رہ گیا۔ جو ٹہنیاں اس کے ڈنڈے
سے چھوتیں، ان میں سے آدھی بہہ کر پھر دریا میں چلی جاتیں، مگر جو رامی کے ہاتھ
لگتی، وہ لازماً کنارے تک آ پہنچتی۔ وہ جتنی بھی کوشش کرتا، بہت سی ٹہنیاں اس کی
گرفت سے نکل جاتیں۔ اسے کبھی گمان بھی نہ گزرا تھا کہ کنارے ہی سے اس قدر لکڑیاں
سمیٹی جا سکتی ہیں۔ آخر وہ وہیں بیٹھا اس کی مہارت پر حیران و ششدر رہ گیا۔
اس روز گوداوری نہایت سرکش تھی۔ چاروں طرف گھنے بادل چھائے ہوئے
تھے، تیز ہوا کے ساتھ ہلکی ہلکی پھوار بھی پڑ رہی تھی۔ بہت سے دھوبی اس دن دریا
میں اترنے سے گھبرا رہے تھے۔
مگر وینکڈو نے دریا میں ہی اترنے کا فیصلہ کیا، بیڑا اپنے سینے کے
نیچے سنبھالے وہ پانی میں کود پڑا۔ اسے یہ گوارا نہ تھا کہ کنارے پر بیٹھ کر ایک
عورت سے مقابلہ کرے۔ اس نے یہ خطرہ اس لیے بھی مول لیا کہ اور کوئی اس جرأت پر
آمادہ نہ تھا، چنانچہ چند ایک اس کے پیچھے ہو لیے۔ وہ بہتی ہوئی لکڑیاں دھکیل
دھکیل کر رامی کی طرف بھیجتا جاتا اور وہ مضبوط ارادے کے ساتھ انہیں قابو میں لیتی
جاتی۔ دوپہر تک سب لوگ واپس جا چکے تھے اور اب وہاں صرف رامی اور وینکڈو رہ گئے
تھے۔ سخت تھکن کے باوجود وینکڈو یہ نہ چاہتا تھا کہ رامی سے پہلے میدان چھوڑ دے۔
اندھیرا گہرا ہونے لگا،
پھوار تیز ہو گئی اور ہوا میں شدت بڑھ گئی۔
وینکڈو نے پکارا، “اب
اور کتنی دیر ٹھہرو گی؟”
رامی نے پلٹ کر کہا،
“تم خود اور کتنی دیر ٹھہرو گے؟”
وینکڈو پھر پانی میں
اترنے کو تھا اور رامی کنارے کے پتھروں پر نہایت متانت سے کھڑی ٹہنیوں کو اپنی طرف
کھینچ رہی تھی۔
وینکڈو نے کہا، “ذرا
سنبھل کر، کہیں پھسل کر پانی میں نہ جا پڑو!”
رامی نے بے پروائی سے
جواب دیا، “تم اپنی فکر کرو، اگر میں پھسل بھی گئی تو تمہیں مجھے نکالنے کی ضرورت
نہیں!”
وینکڈو بولا، “بڑی
بہادری کی باتیں ہیں، مگر اگر تم گریں تو مجھے ہی تمہیں نکالنا پڑے گا!”
اسی لمحے ایک بڑا درخت
بہتا ہوا دکھائی دیا تو وینکڈو اس کی طرف تیرتا ہوا بڑھ گیا۔
درخت نہایت بھاری تھا
اور وہ خود بھی بری طرح تھک چکا تھا۔ اگر رامی سے رقابت نہ ہوتی تو شاید وہ یہ جست
نہ لگاتا، مگر اس نے کسی نہ کسی طرح درخت کو تھام لیا اور آہستہ آہستہ کنارے کی
طرف بڑھنے لگا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا اور
جدوجہد کے دوران اسے صرف دھندلا سا کنارا دکھائی دیتا تھا۔ ادھر رامی کمر تک پانی
میں اتر کر ایک بھاری شاخ کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔
وینکڈو نے آواز دی، “یہ
بہت مشکل ہے، اسے چھوڑ دو!”
رامی نے فوراً جواب
دیا، “تم اپنے درخت کی فکر کرو!”
وہ اس کی کیا لگتی تھی،
ایک ضدی لڑکی، جسے اپنی حد کا احساس ہی نہ تھا، جو خود کو اور گہرے پانی میں لے جا
رہی تھی، گویا موت کو دعوت دے رہی ہو، مگر وینکڈو سے رہا نہ گیا، وہ بار بار کنارے
کی طرف دیکھتا رہا۔ ایک لمحے کو رامی لڑکھڑائی، پھر خود کو سنبھال لیا۔ وینکڈو نے
اپنی چیخ کو ضبط کر لیا اور نظر ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کنارے کی طرف بڑھتا رہا۔
اچانک کسی چیز کے
پھسلنے کی آواز آئی۔ اس کا دل دہل گیا اور اس کے ہاتھ درخت سے چھوٹ گئے۔ اس نے سر
اٹھا کر دیکھا، رامی کہیں نظر نہ آتی تھی۔
وہ پوری قوت کے ساتھ کنارے کی طرف تیرنے لگا۔ کچھ فاصلے پر، دھار
کے ساتھ بہتے ہوئے، اسے ایک سر ابھرتا ڈوبتا دکھائی دیا۔ اس نے لپک کر ایک ہاتھ سے
رامی کو تھام لیا۔ رامی نے نیم بے ہوشی کے عالم میں دونوں ہاتھ اس کے گلے میں ڈال
دیے۔ ایک لمحے کو دونوں پانی میں ڈوب گئے، مگر وہ بڑی مشکل سے خود کو سنبھالتے
ہوئے پھر ابھرا اور سانس بحال کی۔ رامی بے حس و حرکت ہو چکی تھی۔ اس نے آہستہ سے
اس کا سر اپنے کندھے پر جما لیا اور دوسرے ہاتھ سے توازن قائم رکھتے ہوئے بہاؤ کا
مقابلہ کرنے لگا۔ مگر دریا کی بے رحم موجیں انہیں کنارے سے اور دور دھکیل رہی
تھیں۔ اسے خود بھی یقین نہ آتا تھا کہ وہ اس کشمکش سے سلامت نکل سکے گا؛ ہاتھوں
میں لرزش، سانسوں میں بے ترتیبی، اور آنکھیں نیم وا، وہ دونوں وجودوں کو گھسیٹتا
ہوا آگے بڑھتا رہا۔ ایک عمر بیت جانے کے بعد جیسے اس کا ہاتھ کنارے سے ٹکرایا، مگر
وہ کنارا بھی کٹا ہوا تھا، پانی کی تیز دھار سے کھوکھلا۔ اس نے پوری جان لگا کر
ہاتھ اوپر رکھا ہی تھا کہ مٹی کا ایک حصہ ٹوٹ کر بہہ گیا اور دونوں پھر ڈوب گئے۔
اس کی قوت جواب دینے کو تھی، ہوش رخصت ہونے کو تھے، مگر نہ جانے کہاں سے ایک آخری
عزم ابھرا اور وہ آہستہ آہستہ دونوں کو گھسیٹتا ہوا کنارے تک لے آیا۔ وہاں پہنچ کر
کچھ دیر کے لیے وہ سیدھا لیٹ گیا، جیسے سانسوں کو پھر سے زندگی کی مہلت دے رہا ہو۔
رامی کے جسم میں ہلکی سی جنبش ہوئی، ایک مدھم سی کراہ ابھری۔ وہ
فوراً اٹھ بیٹھا اور اسے سنبھالنے لگا، کبھی ادھر کروٹ دیتا، کبھی ادھر۔ نیم بے
خودی کے عالم میں رامی نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ اس لمس میں
نہ جانے کتنی باتیں پوشیدہ تھیں، جیسے بے شمار اَن کہے الفاظ ایک ہی لمحے میں ڈھل
آئے ہوں، اور وینکڈو نے انہیں سب کچھ سمجھ بھی لیا ہو۔
وہ رامی کو اپنے کندھوں پر اٹھائے دھوبیوں کی بستی کی طرف چل پڑا۔
یہ کیسا عجیب لمحہ تھا کہ وہ ؛ جسے وہ ہمیشہ اپنی حریف سمجھتا آیا
تھا، اب اسی کے ہاتھوں زندگی پا کر اس کے سپرد تھی۔ اس نے کبھی یوں واضح لفظوں میں
نہ سہی، مگر دل ہی دل میں یہ کہہ رکھا تھا، اور آج وہ بات حقیقت بن کر سامنے آ گئی
تھی۔
وہ اس سے کیوں برسرِ پیکار رہا؟ یہ رقابت آخر کیوں پیدا ہوئی؟ اگر
وہ کچھ سرکش تھی تو اس میں اس کا کیا نقصان تھا؟ وہ اسے زیر کرنا چاہتا تھا، مگر
ناکام رہا، اور یہی اس کی خلش تھی۔ ٹہنیاں سمیٹنے میں کوئی لڑکی اس کا مقابلہ نہ
کر سکتی تھی۔ وہ ایک سچی، زندہ دل لڑکی تھی، ہاں ذرا ضدی سہی، مگر کیا وہ خود اس
سے کم تھا؟
وہ پانی میں گری اور اس نے اسے بچا لیا۔ اس سے پہلے اس نے کبھی
ایسا کارنامہ انجام نہ دیا تھا۔ آج کسی نہ کسی طرح وہ اس پر غالب آ گیا تھا۔ اس کے
دل میں ایک عجیب سا احساس جاگا کہ جس جان کو اس نے موت کے منہ سے چھینا ہے، اس پر
اس کا ایک اخلاقی حق قائم ہو گیا ہے، جیسے اس نے اسے فتح کر لیا ہو۔
اب اسے اس میں ایک ایسی دلکشی، ایک ایسی نرمی اور لطافت نظر آتی
تھی جو اسے دنیا کی کسی اور لڑکی میں دکھائی نہ دیتی تھی۔
جب رامی کو کچھ ہوش آیا تو اس نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں
لے کر آہستہ سے دبا دیا۔ اس ایک لمس میں شکر گزاری بھی تھی، ہار مان لینے کا اقرار
بھی، اور شاید وہ سب کچھ بھی جو لفظوں میں کبھی ادا نہ ہو سکتا۔
وینکڈو نے نرمی سے اسے زمین پر لٹایا اور اس کے ماں باپ کو آواز
دی۔
پل بھر میں لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ رامی کی ماں سینہ کوبی
کرتی ہوئی بین کرنے لگی اور اس کا باپ ساکت و ششدر زمین پر بیٹھ گیا۔ برادری کے
بزرگ اسے ہوش میں لانے کی کوششوں میں لگ گئے، کوئی اس کے بدن سے پانی نکال رہا
تھا، کوئی آگ تاپ کر اسے حرارت دینے کی تدبیر کر رہا تھا۔
رامی کی ماں چیخ اٹھی، “کمبخت نے میری بیٹی کو مار ڈالا!”
وینکڈو کے کانوں تک یہ شور جیسے پہنچتا ہی نہ تھا۔ اس کی تھکی ہوئی
نگاہیں صرف رامی کے چہرے پر جمی تھیں۔
رامی نے ذرا سی جنبش کی، پلکیں نیم وا ہوئیں، اور وینکڈو اس کے
قریب جا کھڑا ہوا۔ اس کی اذیت زدہ آنکھوں میں ایک نرم سی حرارت تھی، جسے صرف وہی
دیکھ سکا۔ اس کا دل ایک لمحے کو ٹھہر سا گیا۔
مگر انہی نگاہوں نے رامی کی ماں کے شک کو اور گہرا کر دیا۔ وہ اور
بلند آواز سے رونے لگی، “یہی ہے وہ ظالم، اس نے تنہائی پا کر میری بچی کو مار ڈالا!”
وینکڈو ساکت رہ گیا، کیا یہی اس کی ساری جدوجہد کا صلہ تھا؟
رامی کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں اور اس کے باپ کے ذہن میں پرانی
دشمنی کے سارے زخم ہرے ہو اٹھے۔ وہ جھنجھلا کر بولا، “میں ابھی پولیس کو بلاتا
ہوں، دیکھتا ہوں تجھے!” اور غصے سے بھرا وہاں سے چل دیا۔
اگر وہ ذرا سا اور تھک گیا ہوتا تو شاید گوداوری کی موجیں اسے بھی
رامی کے ساتھ نگل چکی ہوتیں۔ اس نے اسے بڑی مشقت سے بچایا تھا، مگر یوں لگتا تھا
کہ اس کا کوئی حاصل نہ ہوا، بس ایک جرم کا شبہ اس کے حصے میں آیا۔
اس لمحے وینکڈو کو ساری دنیا ایک بے رحم اور کج رو جگہ محسوس ہونے
لگی، جہاں وہ خود اور رامی جیسے دو وجود گویا کہیں کے نہ رہے ہوں۔

Comments
Post a Comment