افسانہ نمبر 738 : ممنوعہ لفظ || مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی) || مترجم: خالد فرہاد (سیالکوٹ)



 عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

افسانہ نمبر 738 : ممنوعہ لفظ ( اطالوی افسانہ)

مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی)

مترجم: خالد فرہاد  (سیالکوٹ)

 

محتاط اشاروں کنایوں، ذومعنی چٹکلوں، نپی تلی گفتگوؤں، اور پراسرار سرگوشیوں کے بعد، بالآخر مجھے یہ اندازہ ہو ہی گیا  کہ اس شہر میں—جہاں منتقل ہوئے مجھے تین ماہ ہو چلے ہیں— ایک خاص لفظ کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔ وہ کونسا لفظ ہے؟ یہ میں نہیں جانتا۔ممکن ہے کہ وہ کوئی عجیب و غریب اور غیر معمولی لفظ ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ روزمرہ استعمال کا کوئی عام سا لفظ ہو۔ اگر ایسا ہے، تو میرے جیسے پیشے سے وابستہ شخص کے لیے کچھ دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

خوفزدہ ہونے کی بجائے مضطرب اور متجسس ہو کر میں اس صورتحال پر اپنے دوست ’ہیرونیمو‘ سے مشورہ کرنے گیا۔ وہ میرے تمام جاننے والوں میں سب سے زیادہ دانا ہے؛ چونکہ وہ اس شہر میں بیس سال سے زائد عرصے سے مقیم ہے لہذٰا یہاں کی زندگی اور اس کے تمام تر عجائبات سے بخوبی واقف ہے۔

’’ ہاں یہ سچ ہے۔‘‘ میری بات سنتے ہی ہیرونیمو نے فوراً کہا، ’’واقعی یہاں ایک ایسا ممنوعہ لفظ ہے جس سے ہر کوئی گریز کرتا ہے۔‘‘

’’اور وہ لفظ کونسا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’دیکھو!‘‘ اس نے جواب دیا، ’’میں جانتا ہوں کہ تم ایک دیانتدار شخص ہو، میں تم پر بھروسہ کر سکتا ہوں، اور میں تمہارا مخلص دوست بھی ہوں۔ لیکن اس سب کے باوجود، یقین کرو، بہتر یہی ہے کہ میں تمہیں وہ لفظ نہ بتاؤں۔ سنو؛ میں بیس سال سے زیادہ عرصے سے اس شہر میں رہ رہا ہوں، اس نے مجھے خوش آمدید کہا، مجھے روزگار دیا، اور معزز شہری ہونے کا موقع بخشا، ہمیں ان چیزوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اپنی حد تک، میں نے اس کے قوانین کی بخوشی پاسداری کی ہے، خواہ وہ اچھے ہوں یا بُرے۔ مجھے یہاں سے جانے سے کس نے روکا تھا؟ مگر میں ان تمام باتوں کے باوجود یہیں بسا رہا۔ میں اپنے فلسفی ہونے کا ڈھونگ نہیں رچاؤں گا، اور یقیناً میرا سقراط کی نقالی کرنے کا ارادہ بھی نہیں ہے کہ اسے قید خانے سے فرار ہونے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ لیکن میں اس شہر کے اصولوں کو توڑنے سے کتراتا ہوں، شہر جو مجھے اپنا سپوت مانتا ہے۔ جب کہ تمہارا اصرار مجھے اس شہر کے قانون کی خلاف ورزی پر اکسا رہا ہے..... چاہے یہ خلاف ورزی کتنی معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ اور خدا بہتر جانتا ہے کہ یہ اتنی معمولی ہے بھی یا نہیں۔‘‘

’’لیکن ہم تو یہاں تخلیے میں بات کر رہے ہیں.... ہیرونیمو! یہاں ہمیں کوئی نہیں سن سکتا۔ چلو بھی، کیا تم مجھے وہ لعنتی لفظ نہیں بتاؤ گے؟ تمہاری مخبری کون کر سکتا ہے؟ بھلا میں کروں گا؟‘‘

’’میں دیکھ رہا ہوں،‘‘ ہیرونیمو نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، ’’تم چیزوں کو اب بھی ہمارے اسلاف کی ذہنیت سے پرکھتے ہو۔ شاید تمہارا اشارہ سزا کے خوف کی طرف ہے؟ ہاں، ایک وقت تھا جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ تعزیر کے بغیر قانون اپنی عملداری قائم نہیں رکھ سکتا، اور شاید یہ بات درست بھی ہو، لیکن یہ ایک انتہائی فرسودہ اور خام سوچ ہے۔ اگرچہ قانون کے ساتھ تعزیر نہ بھی جڑی ہو، تب بھی وہ اپنی پوری قوت اور اہمیت منوا سکتا ہے۔ ہم اب تہذیب یافتہ ہیں۔‘‘

’’تو پھر تمہیں کونسی چیز مانع ہے؟ ضمیر؟ یا پشیمانی؟‘‘

’’اوہ، ضمیر! وہ بیچارا پرانا کباڑی! یقیناً، صدیوں تک اس نے انسانوں کے لیے انمول خدمات انجام دی ہیں، لیکن اسے بھی تو وقت کے ساتھ خود کو ڈھالنا پڑا ہے، اور اب وہ ایک ایسی چیز میں بدل چکا ہے جو ضمیر سے موہوم سی مشابہت رکھتی ہے، ایک ایسی چیز جو زیادہ سادہ، اور معمول کے مطابق ہے، بلکہ میں کہوں گا کہ قدرے مطمئن ہے، یہ اب پہلے سے کہیں کم معترض اور باعثِ آزار ہے۔‘ ‘

’’اگر تم اس کی بہتر وضاحت نہیں دو گے تو میں...‘‘

’’ہمارے پاس اس کی کوئی سائنسی تعریف موجود نہیں۔ عوامی زبان میں اسے ’موافقت‘ یا ’ہمنوائی‘ کہتے ہیں۔ دراصل یہ وہ سکون ہے جس سے وہ شخص لطف اندوز ہوتا ہے جو اپنے گرد و پیش کے ہجوم کے ساتھ مکمل ہم آہنگی محسوس کرے، یا پھر یہ ان لوگوں کی بے چینی، اضطراب اور الجھن ہے جو قاعدے سے انحراف کرتے ہیں۔‘‘

’’لیکن کیا یہ کافی ہے؟‘‘

’’یقیناً یہ کافی ہے، ہم آہنگی ایک زبردست قوت ہے، جو ایٹمی ہتھیاروں  سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ فطری طور پر یہ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتی؛ اس موافقت کا بھی ایک اپنا جغرافیہ ہے۔ پسماندہ ممالک میں یہ ابھی تک نوزائیدہ ہے یا کمسنی میں ہے، اور وہاں اس کے ساتھ افراتفری بھی پائی جاتی ہے، اور یہ بغیر کسی سمت کے محض خواہشات اور اتفاقات کے تابع ہوتی ہے۔ ’فیشن‘ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ تاہم ترقی یافتہ ممالک میں یہ قوت زندگی کے ہر شعبے میں نفوذ کر چکی ہے اور مکمل طور پر مربوط ہے۔ یوں کہیے کہ جیسے یہ فضا کا ہی ایک حصہ ہو، اور یہ یقینی طور پر مقتدر قوتوں کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

’’اور یہاں کیا صورتحال ہے؟‘‘

’’یہاں صورتحال بُری نہیں ہے، بالکل بھی بُری نہیں ہے۔ مثلاً ایک لفظ پر پابندی دراصل حکام کی جانب سے لوگوں میں اس ’موافقت‘ کی پختگی جانچنے کا ایک دانشمندانہ اقدام تھا۔ گویا یہ ایک قسم کا امتحان تھا، اور نتیجہ توقع سے کہیں زیادہ بہتر نکلا۔ اب وہ لفظ ایک ’ٹیبو‘ بن چکا ہے، تم اسے کتنا ہی  تلاش کیوں نہ کر لو، یقیناً وہ تمہیں ہمارے درمیان کہیں نہیں ملے گا، کسی تہہ خانے کے اندھیرے میں بھی نہیں۔ لوگوں نے پلک جھپکتے میں اس پابندی کو کسی بھی تادیب، جرمانے یا قید کی دھمکی کے بغیر ہی خود بخود اپنا لیا ہے۔‘‘

’’اگر تمہاری بات سچ ہے، تو پھر سب کو دیانتدار بنانا تو بہت ہی آسان ہوگا۔‘‘

’’یقیناً، لیکن اس میں کئی سال، دہائیاں اور شاید صدیاں لگیں گی۔ ظاہر ہے کہ ایک لفظ پر پابندی نسبتاً آسان ہے، کیونکہ ایک لفظ کو ترک کرنے میں زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی، لیکن دھوکہ دہی، غیبت، بے وفائی اور بھتے کی پرچی؛ زیادہ سنگین چیزیں ہیں، لوگ ان کے عادی ہو چکے ہیں۔ ذرا انہیں یہ سب چھوڑنے کا کہہ کر تو دیکھو، وہ مانیں تو یہ حقیقی قربانیاں ہوں گی، اور اس سے بھی بڑھ کر، ہم آہنگی کی خودکار لہر  جسے اگر اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو شروع ہی سے برائی، خودغرضی، بزدلی اور چاپلوسی کی طرف مائل ہوتی ہے، اس کا رُخ موڑنا ہو گا، اور یہ آسان نہیں ہے۔ ہم وقت کے ساتھ کامیاب ہو جائیں گے، یقین رکھو کہ ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔‘‘

’’اور کیا تم اسے مستحسن سمجھتے ہو؟ کیا اس کے  زیرِ اثر ایک خوفناک قسم کی سطحیت اور یکسانیت پیدا نہیں ہو جائے گی؟‘‘

’’مستحسن؟ اسے مستحسن تو نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن یہ یقینی طور پر مفید ہے، انتہائی مفید۔ اور معاشرہ بالآخر اس سے مستفید ہوتا ہے۔ بہر حال، کیا تم نے کبھی اس پر غور کیا ہے؟ وہ کردار، وہ عجیب و غریب لوگ اور نمایاں انفرادی خصوصیات کی حامل شخصیات جنہیں کل تک بہت زیادہ سراہا جاتا تھا، اور جو انتہائی سحر انگیز  ہستیاں مانی جاتی تھیں، دراصل وہی لاقانونیت اور انارکی کے  بیجوں کے سوا کچھ نہ تھیں۔ کیا وہ سماجی ڈھانچے کی کمزوری کا مظہر نہیں ہیں؟ اور اس کے برعکس، کیا تم نے کبھی غور  کیا ہے کہ جو قومیں سب سے زیادہ طاقتور ہوتی ہیں، ان میں اخلاقی اوصاف کی ایک غیر معمولی، بلکہ پریشان کن، یکسانیت پائی جاتی ہے؟‘‘

’’مختصر یہ کہ تم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مجھے وہ لفظ نہیں بتاؤ گے؟‘‘

’’میرے دوست، ناراض مت ہو، تمہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ کسی بد اعتمادی کی وجہ سے نہیں ہے، اگر میں نے تمہیں بتا دیا تو میں خود کو شدید بے چین محسوس کروں گا۔‘‘

’’تم بھی؟ تم جیسا باصلاحیت اور اعلیٰ انسان بھی اس ہجوم کی سطح پر آ گرا ہے؟‘‘

ہیرونیمو نے مایوسی سے سر ہلایا اور کہا: ’’ایسا ہی ہے میرے عزیز، ماحول کے دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے تمہیں دیوتاؤں جیسی طاقت چاہیے۔‘‘

’’اور وہ شخصی آزادی. . . .  وہ عظیم ترین نعمت! جس پر تم کبھی ایمان رکھتے تھے۔ تم اسے سلب ہونے سے بچانے کے لیے کچھ بھی کر گزرتے۔ اور اب؟‘‘

’’جو بھی تھا، اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شاید پلوٹارک جیسے سُورموں کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی دھیان نہ دے تو عظیم ترین جذبہ بھی مرجھا جاتا ہے اور رفتہ رفتہ مفقود ہو جاتا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اگر تم جنت کے طلبگار ہو تو اکیلے نہیں رہ سکتے۔‘‘

’’تو، تم مجھے نہیں بتانا چاہتے؟ کیا یہ کوئی گندا اور فحش لفظ ہے؟ یا اس کے کوئی مجرمانہ معنی ہیں؟‘‘

’’اس کے بالکل برعکس۔ یہ ایک صاف ستھرا، شریفانہ اور پرسکون لفظ ہے۔ اور یہی خصوصیات قانون سازوں کی ذہانت کا ثبوت ہیں۔ فحش اور ناشائستہ الفاظ پر تو پہلے ہی، چاہے تھوڑی سی حد تک ہی سہی، ایک خاموش پابندی موجود تھی۔ تب اس تجربے کی کوئی خاص اہمیت نہ ہوتی۔‘‘

’’مجھے کم از کم یہ تو بتا دو کہ وہ اسم معرفہ ہے؟ صفت ہے؟ فعل ہے؟ یا اسم ظرف ہے؟‘‘

’’لیکن تم اتنا اصرار کیوں کر رہے ہو؟ اگر تم یہاں ہمارے درمیان رہے، تو ایک نہ ایک دن تمہیں اس ممنوعہ لفظ کا پتہ چل ہی جائے گا۔ اچانک اور تقریباً محسوس کیے بغیر، یوں میرے دوست، تم اسے ماحول سے ہی جذب کر لو گے۔‘‘

’’خیر، بوڑھے ہیرونیمو! تم واقعی ضدی انسان ہو! کوئی بات نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنی تشفی کے لیے، مجھے لائبریری جا کر قانون کی کتابیں کھنگالنی پڑیں گی۔ اس حوالے سے کچھ نہ کچھ تو ضرور موجود ہوگا، ہے نا؟ اور یہ قانون شائع شدہ بھی ہوگا، اور اس میں واضح طور پر وہ ممنوعہ لفظ لکھا ہوگا۔‘‘

’’آہ، تمہاری سوچ کتنی محدود ہے۔ تم اب بھی اسی پرانے ڈھرے پر سوچ رہے ہو۔ صرف یہی نہیں، بلکہ تم سادہ لوح بھی ہو۔ ایک ایسا قانون جو کسی لفظ کو ممنوع قرار دینے کے لیے اسی لفظ کا استعمال کرے، وہ تو خود اپنی ہی خلاف ورزی کرے گا، یہ ایک قانونی تضاد ہو گا۔ تمہارا لائبریری جانا بیکار ہے۔‘‘

’’چلو بھی ہیرونیمو، تم میرا مذاق اڑا رہے ہو! یقیناً کسی نے تو یہ فرمان جاری کیا ہوگا نا کہ آج سے فلاں لفظ پر پابندی ہے۔ اور اس نے وہ لفظ ضرور بولا یا لکھا ہوگا۔ ہے نا؟ ورنہ لوگوں کو کیسے پتہ چلا؟‘‘

’’دراصل، اس معاملے کا یہی پہلو شاید قدرے پیچیدہ ہے۔ اس حوالے سے تین نظریات ہیں: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پابندی پولیس کے خفیہ اہلکاروں نے زبانی طور پر پھیلائی۔ دوسرے دعویٰ کرتے ہیں کہ ممانعت کا فرمان انہیں گھر پر ایک مہر بند لفافے میں ملا تھا، جس پر یہ ہدایت درج تھی کہ اسے پڑھتے ہی جلا دیا جائے۔ اور آخر میں وہ بنیاد پرست لوگ ہیں، جنہیں تم قنوطی بھی کہہ سکتے ہو، ان کا موقف ہے کہ کسی واضح اور صریح حکم کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں تھی؛ وہ شہریوں کو محض بھیڑوں کا ریوڑ سمجھتے ہیں، ان کے نزدیک حکام کے لیے یہ چاہنا ہی کافی تھا کہ قانون نافذالعمل ہو، اور سب کو ایک طرح سے قوتِ متخیلہ کے ذریعے فوراً اس کا علم ہو گیا۔‘‘

’’لیکن سب کے سب تو یقیناً کیڑے مکوڑے نہیں بن گئے ہوں گے۔ ان کی تعداد خواہ کتنی ہی کم کیوں نہ ہو، اس شہر میں خود مختار سوچ کے مالک کچھ آزاد خیال لوگ بھی تو ہوں گے۔ جو حکام کے مخالف، بدعتی، باغی یا قانون شکن ہوں گے، تم انہیں جو بھی نام دے لو۔ کیا ان میں سے کسی نے بھی، مبارزت کے طور پر، اس ممنوعہ لفظ کو بولنے یا لکھنے کی جرات نہیں کی؟ اگر کوئی ایسا کرے تو تب کیا ہوتا ہے؟‘‘

’’کچھ نہیں، بالکل کچھ نہیں۔ اور یہی تو اس تجربے کی غیر معمولی کامیابی کا راز  ہے۔ یہ پابندی روحوں کی اس قدر گہرائی میں اُتر چکی ہے کہ اس نے انسانی ادراک اور حواس تک کو اپنے قابو میں کر لیا ہے۔‘‘

’’تمہارا  کیا مطلب ہے؟‘‘

’’یہ لاشعور کا ’انکار‘ پر مبنی وہ حربہ ہے، جو خطرے کی صورت میں مداخلت کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اس منحوس لفظ کو زبان سے ادا کرتا ہے، تو لوگوں کو وہ سنائی ہی نہیں دیتا، اور اگر وہ اسے کہیں لکھا ہوا پاتے ہیں تو انہیں وہ دکھائی ہی نہیں دیتا۔‘‘

’’اور وہ اس لفظ کی بجائے کیا دیکھتے ہیں؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ اگر وہ دیوار پر لکھا ہو تو صرف ایک خالی دیوار نظر آتی ہے، اور اگر کاغذ پر تحریر ہو تو محض ایک خالی جگہ دکھائی دیتی ہے۔‘‘

میں نے ایک آخری کوشش کی: ’’ہیرونیمو، خدارا، میں آج یہاں تم سے صرف اپنے تجسس کی خاطر بات کر رہا ہوں۔ کیا میں نے آج اپنی گفتگو میں اس پراسرار لفظ کا استعمال کیا ہے؟ کم از کم تم مجھے یہ تو بتا ہی سکتے ہو۔ اس میں تمہارا کوئی حرج نہیں ہوگا۔‘‘

بوڑھا ہیرونیمو مسکرایا اور اس نے آنکھ ماری۔

میں نے دہرایا: ’’تو کیا میں نے اسے استعمال کیا ہے؟‘‘

اس نے دوبارہ آنکھ ماری، لیکن اچانک ایک گہری اداسی اس کے چہرے پر چھا گئی۔

میں نے اس سے پوچھا: ’’کتنی بار؟ اب نخرے نہ کرو۔ چلو بتاؤ، کتنی بار؟‘‘

اس نے جواب دیا: ’’میں نہیں جانتا کہ کتنی بار۔ دیکھو، میں پوری ایمانداری سے کہتا ہوں کہ اگر تمہارے نطق سے وہ لفظ نکلا بھی، تو میں اسے سن نہیں سکا۔ لیکن مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گفتگو میں کہیں، میں حلفاً کہتا ہوں کہ مجھے یاد نہیں کہ کہاں، ایک ہلکا سا توقف آیا تھا، خاموشی کا مختصر ترین لمحہ، جیسے تم نے کوئی لفظ بولا ہو اور اس کی آواز مجھ تک نہ پہنچی ہو۔ تاہم، یہ محض ایک غیر ارادی وقفہ بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ گفتگو کے دوران اکثر ہوتا ہے۔‘‘

’’صرف ایک بار؟‘‘

’’اب بس بھی کرو، اصرار مت کرو۔‘‘

’’کیا تم جانتے ہو کہ اب میں کیا کروں گا؟ گھر پہنچتے ہی ہماری اس گفتگو کو میں لفظ بہ لفظ لکھوں گا، اور پھر اسے اشاعت کے لیے بھیج دوں گا۔‘‘

’’لیکن کیوں؟‘‘

’’اگر تمہاری بات سچ ہے، تو پھر وہ کاتب جسے ہم فرض کرتے ہیں کہ وہ ایک اچھا شہری ہے—اس ممنوعہ لفظ کو نہیں دیکھ پائے گا۔ لہٰذا دو امکانات ہیں: یا تو وہ اس سطر میں جہاں وہ لفظ آیا ہے، جگہ خالی چھوڑ دے گا، اور اس سے مجھ پر وہ عیاں ہو جائے گا، یا پھر اس کے برعکس، وہ جگہ خالی چھوڑے بغیر سیدھا آگے لکھتا چلا جائے گا، اور اس صورت میں مجھےاپنے پاس موجود اصل متن کا موازنہ مطبوعہ متن سے کرنا ہوگا، اور مجھے پتہ چل جائے گا کہ وہ لفظ کون سا ہے۔‘‘

ہیرونیمو شفقت سے ہنسا: ’’تم اپنا وقت ضائع کرو گے میرے دوست۔ تم چاہے کسی بھی چھاپہ خانے کی خدمات حاصل  کرو، ہم آہنگی کے تحت وہاں کا کاتب خودبخود جان جائے گا کہ تمہاری اس چال کو کیسے ناکام بنانا ہے؛ یعنی وہ صرف ایک بار اس لفظ کو دیکھ لے گا جو تم نے لکھا ہے، بشرطیکہ تم نے اسے لکھا بھی ہو، اور جب وہ کتابت کرے گا تو اس سے اغماض نہیں برتے گا۔ یقین رکھو، یہاں کے کاتب بہت تربیت یافتہ اور باخبر ہیں۔‘‘

’’لیکن معاف کیجئے، اس سب کا فائدہ کیا ہے؟ کیا یہ شہر کے مفاد میں نہیں ہوگا کہ اگر میں کسی کے کہے یا لکھے بغیر جان جاؤں کہ وہ ممنوعہ لفظ کون سا ہے؟‘‘

’’فی الحال، شاید نہیں۔ مجھ سے ہونے والی تمہاری اس گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ تم ابھی ناپختہ ہو۔ ابھی ایک ابتدائی قدم کی ضرورت ہے. . . . مختصراً یہ کہ تم نے ابھی تک شہر میں رائج موافقت اور ہم آہنگی نہیں سیکھی ہے، اور موجودہ روایات کے مطابق تم اس قابل نہیں ہو کہ قانون کا احترام کر سکو۔‘‘

’’اور جو قارئین اسے پڑھیں گے، کیا انہیں کچھ محسوس نہیں ہوگا؟‘‘

’’وہ صرف ایک خالی جگہ دیکھیں گے، اور بس یہی سوچیں گے کہ: کیسی لاپرواہی ہے، وہ ایک لفظ لکھنا بھول گئے ہیں۔‘‘

***

 

English Title: The Prohibited Word

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)