انتخاب افسانہ نمبر 736 : غسل || تحریر : جینیٹ فریم (نیوزی لینڈ)|| اردو ترجمہ : حنظلہ خلیق (لاہور)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
انتخاب افسانہ نمبر 736 : غسل
تحریر : جینیٹ
فریم (نیوزی لینڈ)
اردو ترجمہ : حنظلہ خلیق (لاہور)
جمعے کی دوپہر اس نے نرگس، انیمون، کے تازہ پھول اور
سرخ گلاب کی چند شاخیں خریدیں ، جو گلابی موم کے کاغذ میں لپٹی ہوئی تھیں، کیونکہ
ہفتے کے دن اس کے شوہر کی وفات کو سترہ برس مکمل ہو رہے تھے۔ ہر سال کی طرح اس بار
بھی وہ ان کی قبر پر جانے کا ارادہ رکھتی تھی، جہاں وہ خود جھاڑ جھنکار صاف کرتی،
اور کتبے کے دونوں جانب رکھے مربے والے دو مرتبانوں میں تازہ پھول سجاتی۔ لیکن اس
سال یہ معمول کی سی ملاقات کچھ زیادہ ہی اس کے ذہن پر سوار تھی۔ اس نے ان پھولوں
کو اسی لیے خریدا تھا تاکہ خود کو اس سفر پر مجبور کر سکے...ایسا سفر جو ہر گزرتے
برس کے ساتھ کچھ زیادہ دشوار ہوتا جا رہا تھا: بس اسٹاپ تک پیدل چلنا، آکٹاگون پر
بس تبدیل کرنا، اور پھر ان قبروں کی قطاروں پر کھلے سمندر کی جانب سے آتی بےرحم
ہواؤں کا سامنا کرنا؛ اور واپسی کے وقت وہ تھکن جو اسے اس قدر گھیر لیتی کہ وہ
چاہتی، بس یہیں کہیں قبروں کے پہلو میں، نرم گھاس پر لیٹ جائے اور سو جائے۔
اُسی شام اس نے کوئلے کی
بالٹی بھری، چولہے میں آگ سلگائی۔ اس کی حرکات سست اور مشقت طلب تھیں، کیونکہ اس
کی کمر اور کندھے میں شدید درد رہتا تھا۔ اس نے اپنے لیے چائے بنائی اور ساتھ کچھ
کلیجی اور بیکن لیا ، پھر چاقو اور کانٹا اس چائے کے تولیے پر رکھے جو وہ دسترخوان
کے طور پر استعمال کرتی تھی، ریڈیو کی آواز اونچی کی تاکہ موسم اور خبروں کا احوال
سن سکے، چائے پی، برتن دھوئے، اور پھر جھولا کرسی پر بیٹھ کر آگ کے پاس اونگھتی
رہی، اس انتظار میں کہ پانی غسل کے لیے مناسب گرم ہو جائے۔
قبرستان، ڈاکٹر یا رشتہ
داروں کے ہاں قیام کی غرض سے جانے سے پہلے وہ ہمیشہ غسل کیا کرتی تھی۔ جب اسے یقین
ہو گیا کہ پانی گرم ہو چکا ہے (اور چائے بھی ہضم ہو چکی ہے)، تو وہ باورچی خانے سے
نکل کر سرد راہ داری سے گزرتی ہوئی اُس باتھ روم کی طرف بڑھی جو اس سے بھی زیادہ
سرد تھا۔
وہ غسل خانے کے دروازے پر
کچھ دیر رکی تا کہ سرد ہوا کے جھونکوں سے مانوس ہو سکے، پھر آہستہ آہستہ قدم
بڑھاتے ہوئے، ہر قدم کے ساتھ اپنی کمر کے درد کو محسوس کرتی، نہانے کے حوض کی طرف
بڑھی۔ اگرچہ وہ جانتی تھی کہ اس کے ہاتھوں کی قوت رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی ہے،
پھر بھی وہ کسی نہ کسی طرح سخت اور جامد نل کھولنے میں کامیاب ہو گئی، اور حوض کو
نیم گرم پانی سے آدھا بھر لیا۔ "کتنا ضیاع ہے!" اس نے سوچا۔ "سارا
مہینہ، جب سے جاڑا پڑ رہا ہے، باورچی خانے میں آگ لگی رہتی ہے، پانی ہمیشہ گرم
رہتا ہے مگر غسل کرنا ایسا محنت طلب کام بن گیا ہے کہ ہر رات تو کیا، ہر ہفتے بھی
ممکن نہیں!" اس نے ایک بڑا تولیہ نکالا، اسے ایک کرسی پر ترتیب سے رکھ دیا،
اور کرسی کو یوں جما دیا کہ اگر پچھلی بار کی طرح کوئی دقت پیش آئے، تو وہ کسی نہ
کسی طرح خود کو سنبھال سکے۔ پھر جب تک اس کے شب خوابی کے کپڑے اخبار کے ایک ورق پر
رکھے کوئلے کے تندور میں گرم ہو رہے تھے، اور اس کا گاؤن کرسی پر تیار پڑا تھا
تاکہ جیسے ہی وہ غسل سے نکلے، فوراً پہن لے ، اس ترتیب کے بعد ہی اس نے اپنے کپڑے
اتارے۔
پہلے تو وہ کچھ دیر سانس
بحال کرنے کو رکی، پھر اس زرد دھبے دار پھسلن بھرے حوض کے کنارے کو مضبوطی سے
تھامے رکھا،وہی کنارہ جو اب اسے کسی پہاڑی چوٹی کے حاشیے کی مانند لگتا تھا، جیسے
نیچے کہیں گہرا سمندر ہو اور دھیرے دھیرے، تکلیف سہتے ہوئے، نہانے کے حوض میں داخل
ہوئی۔ "جیسے ہی باہر نکلی، فوراً شب خوابی کا لباس پہن لوں گی،" اس نے
دل میں سوچا۔
فوراً، واقعی؟ وہ جانتی
تھی کہ یہ صرف چند لمحوں کی بات نہیں ہو گی۔ مگر وہ خود کو سکون سے، بےخوفی سے
سوچنے پر آمادہ کرتی رہی یہ کہتے ہوئے کہ جب وقت آئے گا تو وہ حد درجہ احتیاط برتے
گی؛ ہر عمل کو مرحلہ وار مکمل کرے گی؛ اپنے بگڑتے کمر درد ، کندھے اور کمزور
کلائیوں کو اچانک، چالاکی سے اس کارِ دشوار پر آمادہ کرے گی جس کے خلاف وہ عموماً
بغاوت کر دیتے تھے لیکن ان پر قابو پانے کی کنجی یہی اچانک پن تھا، یہی احتیاط و
تدبیر ، جس سے دھیرے دھیرے ان پر قابو پانا تھا ۔ وہ سیدھی ہو کر بیٹھی رہی، پیچھے
ٹیک لگانے یا لیٹنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے صابن لگا کر خود کو دھونا شروع کیا،
پچھلے دو ہفتوں کی میل کو اپنے جسم سے اتارتے ہوئے۔ اُسے اس بات پر تسلی ہوئی کہ
میل پانی میں تیرتی دکھائی دے رہی تھی، گویا اس کی صفائی کا ثبوت ہو۔ جب غسل مکمل
ہو گیا، تو اس نے خود کو بہانوں کی تلاش میں پایا تاکہ ابھی نہ نکلنا پڑے۔
اس عمر رسیدہ عورت کے
ناخن ، خشک اور چٹخے ہوئے تھے جہاں جراثیم جا کر چھپ سکتے تھے، دوبارہ رگڑنے کی
ضرورت تھی۔ ایڑیوں کی کھال بھی اتنی سخت ہو چکی تھی جیسے اس کے پاؤں پتھر بننے لگے
ہوں۔ کانوں کے پیچھے کی وہ باریک میل کی لکیر بھی؛ آخر اسے یہ سہولت بار بار تو
نہیں ملتی تھی، کیا ملتی تھی؟ کیسا لطف تھا اس گرمائش کا! وہ ایک لمحے کو اونگھنے
لگی۔ کاش وہ یہیں سو جائے، اور جب جاگے تو اپنے شب خوابی کے لباس میں بستر پر لیٹی
ہو! اس نے آہستہ آہستہ خود کو دوبارہ دھونا شروع کیا، اور جب وہ مزید خود کو یہ
دھوکہ نہ دے سکی کہ ابھی کچھ میل باقی ہے، تو بادلِ ناخواستہ صابن، کپڑا اور برش
کو حوض کے کنارے بنے خانے میں رکھ دیا۔ جیسے ہی اس نے ان چیزوں کو چھوڑا، اسے یوں
لگا جیسے اس کے جسم سے تمام قوت اور سہارا چھن گیا ہو۔ گھبرا کر اس نے جھٹ سے نیل
برش دوبارہ تھام لیا، لیکن اُس کا جادو ختم ہو چکا تھا؛ وہ اب اس کردار کو قبول
کرنے پر آمادہ نہ تھا جو وہ اس پر تھوپنا چاہتی تھی۔ صابن اور کپڑا بھی اب محض
کمزور بہتی لکڑیاں تھے جن سے لپٹ کر وہ بچ نکلنے کی امید باندھ رہی تھی۔
اب وہ بالکل تنہا تھی۔
کچھ لمحے وہ یوں ہی پانی کو اپنی جلد سے لگاتار ٹکراتی رہی، شاید اپنے حوصلے کو
سنبھالا دینے کی کوشش میں۔ پھر اس نے پورے عزم سے نِکاسی کا ڈھکنا کھینچ لیا، اور
اکڑوں بیٹھ کر پانی کو اپنی جلد پر گردش کرتے، کِھنچتے، یوں محسوس کیا جیسے وہ
اُسے کھینچ کر نیچے، زمین کی تہہ میں لے جانا چاہتا ہو۔ پھر پانی بلبلاتا ہوا بہہ
نکلا، اور وہ ننگی، کانپتی ہوئی، اب تک حوض سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کر سکی تھی۔
سطح پر کتنی پھسلن ہو گئی
تھی! آئندہ وہ اسے کیروسین سے صاف نہیں کرے گی؛ بلکہ وہ پیسٹ کلینر استعمال کرے گی
جو رات بھر لگا رہنے کے بعد حوض کی سطح پر کھردری تہہ بنا دیتا ہے، جسے جلد سے
پکڑا جا سکتا ہے۔ وہ آگے جھکی، کمر اور کندھے میں شدید درد محسوس ہوا۔ اس نے حوض
کا کنارہ پکڑنے کی کوشش کی، مگر اس کی انگلیاں فوراً پھسل گئیں۔ "گھبراؤ
نہیں،" اُس نے خود کو سمجھایا۔ "آہستہ آہستہ، احتیاط سے، کوشش کرنی
ہے۔"وہ پھر جھکی، پھر اس کی گرفت ایسے ڈھیلی ہوئی جیسے کسی آہنی ہاتھ نے
دانستہ طور پر اس کی نیلی، اکڑی ہوئی انگلیوں کو اس لرزتے ہوئے سہارے سے الگ کر
دیا ہو۔ اس کا دل تیز دھڑکنے لگا، سانسیں تیز ہو گئیں، منہ خشک ہو گیا۔ اس نے لب
تر کیے۔
"اگر میں مدد کے لیے
پکاروں،" اُس نے سوچا، "تو کوئی نہیں سنے گا۔ دنیا میں کوئی نہیں جو
مجھے سنے۔ کوئی نہیں جانتا کہ میں غسل میں ہوں، اور باہر نہیں نکل پا رہی۔"
۔۔۔۔۔۔۔
وہ سننے لگی۔ اسے صرف واش
بیسن کے نلکوں سے ٹپ ٹپ گرتی ٹھنڈے پانی کی آواز سنائی دی، اور اس کے ساتھ ہی ایک
مدھم سرگوشی اور دل کی گھٹتی ہوئی گڑگڑاہٹ، جیسے اس کا دل پانی کے نیچے دھڑک رہا
ہو۔ باقی ساری دنیا جیسے خاموش ہو چکی تھی۔ کہاں گئے لوگ؟ کہاں گیا ٹریفک؟ پھر اسے
ایک عجیب سا احساس ہوا، جیسے وہ زمین کے نیچے کہیں دب گئی ہو، اور اس کے سر میں
گونجتی ہوئی آوازیں ہوں جیسے زمین کے اوپر گاڑیاں گزر رہی ہوں۔ پھر اس نے خود کو
سختی سے جھڑکا کہ وہ بے وقوفی نہیں کرے گی۔ اس نے تو ابھی پوری کوشش بھی نہیں کی
تھی باہر نکلنے کی۔ وہ مضبوط کرسی اور اس پر ہاتھ جمانے کی سہولت کو تو بھول ہی
گئی تھی۔ اگر وہ جلدی سے حرکت کرے، تو پہلے حوض کے دونوں کناروں کو تھام کر خود کو
اٹھا سکتی ہے، پھر انہیں پکڑ کر کرسی تک ہاتھ منتقل کر کے باہر نکل سکتی ہے۔اس نے
ایسا ہی کرنے کی کوشش کی؛ مگر آخری جھٹکا دینے میں ناکام رہی۔
اب وہ زرد پڑ چکی تھی،
سانسیں پھول رہی تھیں، اور وہ دوبارہ حوض میں پیچھے ڈھیر ہو گئی۔ اس نے آوازیں
دینا شروع کیں، لیکن جیسا کہ اس نے پہلے ہی سوچ رکھا تھا ، کوئی جواب نہ آیا۔نہ
کسی گھر میں، نہ گلی میں، نہ ڈنیڈن میں، نہ دنیا کے کسی کونے میں کوئی یہ جانتا
تھا کہ وہ اس لمحے غسل کے حوض میں قید ہے۔
تنہائی نے اس کے اندر ایک
طغیانی سی بھر دی۔
"اگر جان(اس کا مرحوم
شوہر) یہاں ہوتا،" اُس نے سوچا، "اگر ہم اپنا بڑھاپا ایک ساتھ گزار رہے
ہوتے، ایک دوسرے کی مدد کرتے، تو یہ سب کبھی نہ ہوتا۔" اس نے ایک اور بار
نکلنے کی کوشش کی۔ پھر ناکام ہوئی۔اب کی بار وہ اتنی نڈھال ہو چکی تھی کہ آنکھیں
بند کر کے سستانے کی کوشش کی۔ کچھ سنبھلی، دوبارہ کوشش کی، مگر پھر ناکام رہی۔
اس بار گھبراہٹ نے اسے جکڑ
لیا۔ وہ رونے لگی، چیخنے لگی، اور حوض کی دیواروں پر مکے مارنے لگی؛ ایک کھوکھلی،
پاگل پن جیسی آواز گونجی جیسے کسی جنگلی طبل کی بےقابو پکار ہو ۔پھر اُس نے مکے
مارنا بند کیے؛ دوبارہ نکلنے کی کوشش کی؛ اور آدھے گھنٹے سے زائد وہ اسی حالت میں
رہی — کبھی جدوجہد، کبھی سستانا — یہاں تک کہ آخرکار وہ نکلنے میں کامیاب ہوئی،
اور گھسٹتی ہوئی باورچی خانے تک پہنچی۔
اس نے سوچا، ’’میں اب
کبھی دوبارہ اس گھر میں یا کہیں بھی غسل نہیں کروں گی۔ میں اس حوض کو دوبارہ
دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔ یہی اس کا اختتام ہے، یا شاید یہی اس کی ابتدا۔‘‘ اب
مستقبل میں، ایک مقامی نرس کو آنا ہو گا تاکہ وہ اس کی دیکھ بھال کرے۔ اس بات کو
تسلیم کرنا ہی پہلی ذلت ہو گی۔ اور پھر مزید ذلتیں ہوں گی، ایک کے بعد ایک۔ آخرکار
بستر میں، وہ تھکی ہاری اور تنہا لیٹی، اور سوچنے لگی کہ شاید بہتر یہ ہو کہ وہ
فوراً ہی مر جائے۔ روز افزوں کی دشواریاں کسی اذیت سے کم نہ تھیں۔
وہ جوتے جو خاص ڈھب سے
بنوائے بغیر وہ پہن ہی نہ سکتی تھی، وہ جام کے مرتبان جو بالا خانے پر رکھے ہوتے
اور جنہیں اتارنے کے لیے اسے کسی پڑوسی کو بلانا پڑتا، جب کہ محض ایک برس پہلے وہی
جام اس نے خود بنایا اور وہیں رکھا تھا۔
کبھی کبھی اس کی بھانجی
آتی، کوئلے کی بالٹی بھرنے یا گھاس کاٹنے۔ ہر ہفتے کے دھلے کپڑے لائن پر لٹکانے کا
مرحلہ ہوتا۔جس کے لیے اسے ایک خاص ترکیب اپنانی پڑتی، کیونکہ وہ بازو اٹھا نہیں
سکتی تھی جب تک کہ چکر کے خدشے میں کسی چیز کا سہارا نہ ملے۔ اسے یاد آیا، ایک
لمحہ جیسے دنیا تنگ ہو رہی ہو، اندھیری سرنگ کی مانند ۔۔۔۔جب اس کی بھانجی نے ایک
طنزیہ حیرانی سے پوچھا، "دونڈن کے بادل کتنے خوبصورت ہوتے ہیں، کیا آپ کو
نہیں لگتا خالہ؟ یہ بڑے، سفید اور سرمئی گھنے بادل!" اور اُس نے ناامیدی سے،
کڑواہٹ لیے لہجے میں جواب دیا: ’’میں کبھی بادلوں کو نہیں دیکھتی۔‘‘
اسے حیرت ہوئی کہ کتنا
عرصہ گزر گیا جب وہ آسمان کی طرف دیکھ سکتی تھی کہ بغیر اس پر چکر طاری ہوں۔ اب تو
وہ نظر اٹھانے سے بھی ڈرتی تھی۔ نیچے زمین پر ہی اتنا کچھ سنبھالنے کو ہوتا ہے، فٹ
پاتھ کی درزیں، برف اور کہر کے دھبے، سڑک کے گڑھے؛ قریب آتی گاڑیاں اور موٹر
سائیکلیں؛ اور اب تو بیرونی خطرات کے ساتھ ایک اندرونی خطرہ بھی جُڑ گیا تھا—اُس
کا اپنا جسم۔ اب اُسے اپنے بازوؤں اور ٹانگوں کی محافظ بننا تھا، اُنہیں مجبور
کرنا تھا کہ وہ اُس کی مرضی سے چلیں، جب کہ وہی اعضا کبھی کتنی وفاداری سے حرکت
کیا کرتے تھے، تھامتے تھے، چلتے تھے۔
اب وہی جسم اس کا دشمن
تھا۔ وہی اس کا جسم تھا جس نے اس وقت بغاوت کی تھی جب وہ حوض سے نکلنا چاہتی تھی۔
اب اگر اُسے دوبارہ نہانا ہو—کیا عجیب بات تھی!—تو اُسے کسی دوسرے انسان سے مدد
مانگنا ہو گی تاکہ وہ خود اپنے جسم پر قابو پا سکے۔ کیا یہ واقعی اتنا خوفناک تھا؟
شاید نہیں۔ مگر وہ ایسا ہی محسوس ہوتا تھا۔ اسے یاد آیا کہ باہر کہر آہستہ آہستہ
چھتوں، کھڑکیوں، سڑکوں، باڑوں پر جمنے لگا تھا۔ اُسے ایک بار پھر اُس لمحے کا خوف
یاد آیا، جب وہ غسل کے حوض سے نکلنے سے قاصر تھی۔ اُسے اپنے مرے ہوئے شوہر یاد
آئے، اور وہ پھول جو اس نے اُن کی قبر پر رکھنے کے لیے خریدے تھے۔
پھر اُسے کہر کا خیال آیا
، اُس کی سفیدی، جیسے نیا نہانے کا حوض؛ انیمون اور نرگس کے پھول، اور وہ جھاڑی کی
سرخ گلابی پتیوں والی شاخیں؛ سترہ برس سے مرے ہوئے جان کا خیال ۔۔۔ اور پھر وہ
نیند میں ڈوب گئی۔
باہر محض دو گھنٹوں میں ہی ، شمالی ہوا کے ایک اچانک
نرم جھونکے سے کہر پگھلنے لگی۔ رات بہار کی رات کی مانند گرم ہو گئی۔ صبح جلد آن
پہنچی، آسمان ہلکا نیلا تھا، ہوا ایسی نرمی لیے تھی جیسے سانس کی ہلکی سی آہ ہو۔ اور
سامنے کے باغیچے میں نرگس کی ایک کلی پھوٹ پڑی تھی۔
جتنے برسوں سے وہ قبرستان
جاتی رہی، اُس نے کبھی وہاں ہوا کو اتنا نرم محسوس نہ کیا تھا۔ وہ قبرستان جو دو
سمندری گزرگاہوں کی ہوا کے بیچ واقع تھا، ہمیشہ ایسا مقام رہا تھا جہاں کوٹ اور
مفلر میں سمٹ کر کھڑے ہونا پڑتا، جب تک پھول رکھے نہ جائیں اور چھوٹی سی کیاری سے
جھاڑ جھنکار نہ ہٹائی جائے۔
مگر آج… آج سب کچھ بدلا
بدلا سا تھا۔
گزشتہ ماہ کے لگاتار سرد
کہروں کے بعد آج فضا میں سردی کی کوئی رمق تک باقی نہ تھی۔ یہ نرمی، یہ گرمی
ناقابلِ یقین سی لگتی تھی۔
سمندر بنفشی رنگ لیے،
دھیرے دھیرے سسکیاں بھرتا، پلٹتا اور ہلکورے لیتا، مگر جھاگ بھری لہروں میں نہیں
ٹوٹتا تھا۔ ساحل سے اُفق تک وہ بس ایک مسلسل خمیدہ موج کی مانند تھا، اور اُس کی
آواز ایسی تھی جیسے کسی دور افتادہ پرامن جنگل کی دھیمی سرگوشی ہو۔
پھر اُس نے زنگ آلود
باغبانی کا کمانی دار کانٹا اُٹھایا، جو اسے معلوم تھا کہ برابر والی قبر کی گھاس
میں ہمیشہ پڑا ہوتا ہے—وہ قبر جو مدت سے لاوارث چلی آ رہی تھی—پھر وہ جھاڑ پات اور
جنگلی گھاس صاف کرنے میں جُت گئی ۔ صفائی کے بعد زمین سے نیلے رنگ کے پرائمرز کے
پھول، جن کے بیچ میں پیلے مرکز چمک رہے تھے، خزاں کی کچھ کنولیں، اور نرگس کے چھ
انچ اونچے شاخچوں کی قطار ابھرتے دکھائی دیے۔ پھر اس نے ٹوٹی پھوٹی سبز کائی لگی
ہوئی مربے کی بوتلیں جو کتبے کے دونوں اطراف بنی کھونٹیوں پر رکھی تھیں، آہستگی سے
اٹھائیں، اور جھکی ہوئی کمر کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اُس نلکے تک پہنچی جو
لان کے کنارے پر ہمیشہ قطرہ قطرہ ٹپکتا رہتا تھا، وہاں پہنچ کر اس نے بوتلوں میں
کنکر اور پانی بھرے اور انہیں ہلا جلا کر اندر کی پھسلن صاف کرنے کی کوشش کی۔ پھر
ان میں برف کی مانند چمکتا ہوا ٹھنڈا پانی بھرا، اور احتیاط سے ایک ایک بوتل کو
دونوں ہاتھوں میں تھامے واپس قبر کی طرف لوٹی، جہاں اس نے نرگس، انیمون، اور سرخ
پتے موم زدہ کاغذ سے نکالے، اور اُنہیں آدھا ایک بوتل میں، آدھا دوسری میں ترتیب
سے رکھ دیا۔ جب انیمون کے گہرے نیلے پھولوں کے سر ان کے سرخ پتوں کے سہارے ٹھہرے
تو ان کی رنگت سمندر کے رنگ سے جا ملی۔ نرگس کی ڈنڈیاں چھوٹی تھیں مگر ان کے ترشے
ہوئے بڑے شعلہ نما پھول، نزاکت کی بجائے ایک شیریں بوق جیسے لگتے تھے، اور ان کی
خوشبو تیز تھی۔ پھر سمندر کی طرف سے چلنے والی ہواؤں کو یاد کرتے ہوئے اُس نے مومی
کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھولوں کے اُوپر بوتلوں کے منہ میں ٹھونس دیے تاکہ
ہوائیں انہیں اڑا نہ لے جائیں۔
پھر ایک اطمینان بھرے
احساس کے ساتھ وہ کچھ سوچنے لگی ۔۔۔"میں اپنے شوہر کی قبر کا خیال رکھتی ہوں،
سترہ برس گزرنے کے بعد بھی۔ کتبہ نہ ٹوٹا ہے نہ جھکا ہے، کیاری دلدل میں نہیں
بدلی۔ میں اپنے شوہر کی قبر کا کتنا خیال رکھتی ہوں"—وہ چلنے لگی، قبروں کی
قطاروں کے درمیان سے گزرتی ہوئی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ کون سی قبریں سنبھالی گئی
تھیں اور کون سی لاوارث چھوڑ دی گئی تھیں۔ اسی قبرستان میں اُس کے ماں باپ بھی دفن
تھے۔ اب وہ اُن کی قبر کے سامنے کھڑی تھی۔ یہ ایک کشادہ قبر تھی، اُن دنوں کی
یادگار جب مُردوں کے لیے جگہ دستیاب تھی، اور وہ مردے جو صاحبِ حیثیت تھے، جیسے کہ
اُس کے والدین، ان کے لیے اضافی جگہ بھی مخصوص کی جاتی تھی۔ کتبہ دیدہ زیب تھا،
اگرچہ اُس پر لکھی عبارت اب مدھم پڑ چکی تھی؛ موت کے بعد بھی وہ اپنی دنیاوی شان
کا پاس رکھتے تھے۔ قبروں پر کوئی پھول نہ تھا، صرف نرم ریشے دار سمندری گھاس تھی،
جو دھوپ میں سونے کی مانند چمک رہی تھی اور چھونے پر نرم معلوم ہوتی تھی۔ فضا میں
صرف سمندر کی آواز اور پہاڑی کی چوٹی پر ایستادہ درختوں کی ایک قطار کی سرسراہٹ
سنائی دیتی تھی۔ اسے اپنے اندر ایک پُرسکون خاموشی محسوس ہوئی۔ گزشتہ شب کا بھیانک
خواب اب دور لگنے لگا، جیسے وہ کبھی گزرا ہی نہ ہو؛ نہ وہ بے معنی، خوفناک کشمکش
جو ایک نہانے کے حوض سے نکلنے کے لیے درپیش ہوئی تھی!
---
وہ اپنے والدین کی قبر کے
سیمنٹ کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اسے واپس گھر جانے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ وہ بس یہیں
خاموشی سے بیٹھی رہنا چاہتی تھی، جہاں نرم گرم ہوا اس کے گرد بہہ رہی تھی، سمندر
کی سسکیوں میں صنوبر کے درختوں کی سرگوشیاں اور سنہری گھاس کی مدھم پھسلن شامل ہو
رہی تھی۔ وہ اس دولت، وقت اور پیش بینی پر شکر گزار تھی کہ، جس کی بدولت اُس کے
والدین کی قبر قریبی قبروں کے مقابلے میں بہت بڑی تھی۔ اُس کا شوہر، جسے جلایا گیا
تھا، صرف اٹھارہ انچ چوڑی اور دو فٹ لمبی جگہ پا سکا تھا—بس ایک سادہ سا سرمئی
دھبوں والا کتبہ: میرے شوہر "جان ایڈورڈ ہیراؤے" کی یاد میں، وفات 6
اگست 1948، اور بہار کے پھولوں کی ایک تنگ کیاری۔
مگر اس کے والدین کی قبر
بہت کشادہ تھی، اور اس کا سیمنٹ کا کنارہ ایک فٹ اونچا تھا یہ گویا موت میں بھی
اُس زمانے کی "چوتھائی ایکڑ" زمین تھی، جب دنیا میں لوگ کم ہوتے تھے۔
مگر اب، جب دنیا وسیع سے وسیع تر ہو چکی ہے، تو جگہ کیوں ختم ہو گئی ہے؟ یا پھر…
کیا دنیا سکڑ چکی ہے؟ وہ نہیں جانتی تھی۔ سوچ بھی نہ پائی۔ بس اتنا جانتی تھی کہ
وہ گھر واپس نہیں جانا چاہتی۔ وہ یہیں بیٹھنا چاہتی تھی، بس ایک جگہ۔ نہ مزید بسیں
پکڑنی ہوں، نہ سڑکیں پار کرنی ہوں، نہ برفیلے فٹ پاتھوں پر چلنا ہو، نہ بستر کی
چادریں پلٹنی ہوں، نہ الماری کے اوپری خانے سے جام اتارنا ہو، نہ کوئلے کی بالٹی
بھرنی ہو، نہ نہانے کے حوض میں چڑھنا اور اترنا ہو۔ بس کہیں اندر چلے جانا… اور
وہیں رہ جانا؛ یا کہیں سے نکل جانا… اور ہمیشہ باہر ہی رہنا؛ اب سے ہمیشہ کے لیے…
ایک جگہ، ایک ہی جگہ۔
دس منٹ بعد، وہ بس اسٹاپ
پر کھڑی تھی۔ ہر گزرتی بس کے نشان کو گھبرا کر پڑھتی، ہاتھ میں کرایہ کی رقم
مضبوطی سے تھامے ہوئے، کیونکہ ہفتے کے آخر میں رعایتی ٹکٹ نہیں چلتے۔ وہ اُس چائے
کے کپ کے بارے میں سوچ رہی تھی جو گھر پہنچ کر بنائے گی، اُس رات کے کھانے کے بارے
میں جس میں کلیجی اور بیکن کا بچا ہوا حصہ ہو گا۔ اسے اپنے بھانجے کا خیال آیا جو
کرائسٹ چرچ سے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ اسکول کی چھٹیوں میں آ رہا تھا؛ اور
اپنی بھانجی کا بھی جو گھر میں تیسرے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ کاریں اور بسیں گزر
رہی تھیں، ہارن بجتے، ہوائی جہازوں کی بھنبھناہٹ دور اور قریب، پھر دور اور پھر
قریب۔ بچے چیخ رہے تھے، کتے بھونک رہے تھے؛ اور جیسے مقابلے میں سمندر کی آواز بھی
تیز ہو چکی تھی، جیسے اب اس کی لہریں جھاگ اُگل رہی ہوں۔
ایک لمحے کو، قبرستان کے
سکون کے بعد وہ الجھن میں آ گئی۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں، اپنے شوہر کی قبر کا
تصور واپس پانے کی کوشش کی جو اب بہار کے پھولوں سے روشن تھی اور اپنے والدین کی
قبر، جو وسیع، کشادہ، اور اتنی بڑی تھی کہ گویا مُردے اگر خواب میں کروٹ بدلنا
چاہیں، تو سہولت سے کر سکیں، جیسے وہ دونوں ایک بڑے نرم گھاس والے ڈبل پلنگ پر
ساتھ سوئے ہوئے ہوں۔ وہ کھڑی رہی، سکون کی اُس جھلک کو واپس لانے کی کوشش کرتی۔مگر
وہ صرف اپنے شوہر کی قبر دیکھ سکی، جو اب اور بھی تنگ دکھائی دے رہی تھی، جیسے
بہار کی کیاری سکڑ کر ایک لکیری پٹی رہ گئی ہو، پھر وہ بھی منظر سے اوجھل ہو گئی۔
اور جو باقی رہ گیا، وہ
بس غسل خانہ تھا… وہی حبس زدہ، تنگ حوض… گھاس جیسا زرد، جیسے پرانے حوضوں کا رنگ
ہوتا ہے، وہ برف جیسا سفید نہیں تھا… جو یوں منتظر بیٹھا تھا کہ کب ایک لمحے کی بے
خبری، ایک کمزوری، ایک درد… اُسے ہمیشہ کے لیے اپنا لے!!

Comments
Post a Comment