انتخاب افسانہ نمبر 735 : آناگور کی فصیل || تحریر : دینو بوتزاتی (اٹلی) || مترجم: خالد فرہاد (سیالکوٹ)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
انتخاب افسانہ نمبر 735 :
آناگور
کی فصیل
تحریر : دینو بوتزاتی (اٹلی)
مترجم: خالد فرہاد
(سیالکوٹ)
تبیستی کے عین قلب میں، ایک مقامی سیاحتی راہ
نما نے مجھے پیشکش کی کہ اگر میں آناگور شہر کی فصیل دیکھنا چاہوں تو وہ میری
ہمراہی کر سکتا ہے۔ میں نے نقشے پر نظر دوڑائی، لیکن وہاں آناگور نام کا کوئی شہر
نہیں تھا۔ یہاں تک کہ سیاحتی کتابچوں میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں تھا، جو کہ
عموماً تفصیلات سے بھرے ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا، ’’یہ کیسا شہر ہو گا، نقشوں پر جس
کا کوئی نام و نشان تک نہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا، ’’یہ ایک عظیم شہر ہے، نہایت
خوشحال اور طاقتور، پھر بھی یہ کسی نقشے پر موجود نہیں، کیونکہ ہماری حکومت اس سے
اغماض برتتی ہے، یا کم از کم نظر انداز کرنے کا دکھاوا کرتی ہے۔ یہ خودمختار شہر ہے اور کسی کا باج گزار نہیں۔ یہ اپنی ہی دنیا
میں مگن ہے، اور بادشاہ کے وزراء تک اس میں داخل نہیں ہو سکتے۔ دور و نزدیک، کسی بھی ملک کے ساتھ اس کی کوئی تجارت
نہیں۔ یہ قلعہ بند شہر ہے۔ یہ صدیوں سے اپنے مضبوط حصار میں آباد ہے۔ اور حقیقت یہ
ہے کہ آج تک کسی شخص نے بھی شہر نہیں چھوڑا، کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں کے
مکین خوش و خرم ہیں؟‘‘
’’لیکن نقشے،‘‘ میں نے اصرار کیا، ’’آناگور نام
کے کسی شہر کی نشاندہی نہیں کرتے، جس سے گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ اس ملک کے بہت سے
اساطیر میں سے محض ایک افسانہ ہے۔ یہ سب غالباً صحرا کی چمکتی ریت سے پیدا ہونے
والے سرابوں کا کرشمہ ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘‘
’’ہمارے لیے یہی مناسب ہے کہ ہم پو پھٹنے سے دو
گھنٹے قبل روانہ ہو جائیں،‘‘ مقامی سیاحتی راہ نما نے میری بات ان سنی کرتے ہوئے
کہا۔ اس کا نام ماگالون تھا۔ ’’محترم، آپ کی گاڑی میں ہم دوپہر کے قریب آناگور کی
سرحد پر پہنچ جائیں گے۔ جناب، میں صبح تین بجے آپ کو لینے آؤں گا۔‘‘
’’جیسے شہر کا تم ذکر کر رہے ہو، نقشوں میں اسے
دوہرے دائرے سے ظاہر کیا جانا چاہیے تھا اور اس کا نام جلی حروف میں لکھا ہونا
چاہیے۔ لیکن مجھے آناگور نامی شہر کا کوئی حوالہ نہیں ملا، جو بظاہر وجود ہی نہیں
رکھتا۔ بہرحال میں تین بجے تیار رہوں گا، ماگالون۔‘‘
صبح تین بجے، اپنی گاڑی کی بتیاں جلائے، ہم
روانہ ہوئے اور جنوب کی سمت صحرائی راستے پر چل پڑے۔ سردی سے بچنے کے لیے میں یکے
بعد دیگرے سگریٹ پھونکتا رہا۔ میں نے اپنی بائیں جانب افق پر اُجالا پھیلتے
دیکھااور فوراً ہی سورج طلوع ہوگیا، جو بلند ہوتے ہی آگ برسانے لگا، حتیٰ کہ ہر
طرف اس قدر تپش اور جھلملاہٹ تھی کہ چہار سُو ایسی جھیلیں اور دلدلیں دکھائی دیتی
تھیں جن میں چٹانوں کے عکس پوری صراحت سے جھلک رہے تھے۔ تاہم، حقیقت میں وہاں پانی
کا نام و نشان تک نہ تھا، چُلو بھر پانی بھی نہیں، وہاں محض ریت اور دہکتے ہوئے
پتھر تھے۔
اس کے باوجود، گاڑی منزل کی طرف رواں دواں رہی،
اور ٹھیک 11:37 پر میرے پہلو میں بیٹھے ماگالون نے کہا، ’’دیکھیے، جناب۔‘‘ تب میں
نے اس شہر کی فصیل دیکھی جو کئی میل تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی رنگت زردی مائل تھی،
اونچائی بیس سے تیس میٹر تک ہو گی، لمبی چوڑی دیوار کا یہ ایک طویل اور غیر منقطع
سلسلہ تھا، جس پر جگہ جگہ برج بنے ہوئے تھے۔
جیسے ہی میں قریب پہنچا، میں نے مختلف مقامات
پر، فصیل کے بالکل نزدیک خیمہ بستیاں دیکھیں: خستہ حال جھونپڑیاں، عام خیمے، امراء
کے لیے شامیانے اور سائبان، جن کے اوپر پرچم لہرا رہے تھے۔
’’یہ کون لوگ ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ماگالون نے
وضاحت کی: ’’یہ آناگور شہر میں داخل ہونے کی امید لگائے بیٹھے ہیں، اور اسی لیے یہ
دروازوں کے سامنے فروکش ہیں۔‘‘
’’اچھا، تو وہاں دروازے بھی ہیں؟‘‘
’’ہاں چھوٹے بڑے دروازوں کی ایک کثیر تعداد ہے،
شاید سو سے بھی زیادہ ہوں۔ لیکن شہر کا محیط اس قدر وسیع ہے کہ ہر دروازے کے
درمیان ایک طویل فاصلہ حائل ہے۔‘‘
’’اور یہ دروازے کب کھلتے ہیں؟‘‘
’’یہ دروازے تقریباً کبھی نہیں کھلتے۔ پھر بھی
یہ افواہ گردش میں رہتی ہے کہ کچھ دروازے کھلیں گے۔ آج رات یا کل، تین ماہ میں یا
پچاس سالوں بعد، یہ کوئی نہیں جانتا۔ درحقیقت، یہی آناگور شہر کا سب سے بڑا معمہ
ہے۔‘‘
***
تو بالآخر ہم یہاں تھے۔ ہم ایک ایسے دروازے کے
سامنے رُکے جو فولاد کا بنا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ وہاں بہت سے لوگ منتظر تھے: لاغر
اور کمزور بدو، بھکاری، نقاب پوش عورتیں، راہب، زرہ بکتر پہنےمسلح جنگجو، حتیٰ کہ ایک شہزادہ بھی اپنے
قلیل درباریوں کے ہمراہ وہاں موجود تھا۔ ہر تھوڑی دیر بعد کوئی شخص لاٹھی سے
دروازے پر ضرب لگاتا، جس سے ایک گونج پیدا ہوتی۔
ماگالون نے کہا، ’’وہ اس لیے دستک دیتے ہیں
تاکہ آناگور کے باسی ضربوں کی آواز سن کر دروازہ کھول دیں۔ دراصل، عام عقیدہ یہی
ہے کہ اگر آپ دستک نہیں دیں گے تو کوئی بھی دروازہ نہیں کھولے گا۔‘‘
میرے ذہن میں ایک خدشہ جاگا۔ ’’کیا یہ یقینی ہے
کہ فصیل کے اس پار کوئی رہتا بھی ہو؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اب تک یہ شہر ویران
ہو چکا ہو؟‘‘
ماگالون مسکرایا۔ ’’جب لوگ پہلی بار یہاں آتے
ہیں تو ہر کسی کے ذہن میں یہی خیال آتا ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے بھی یہی شبہ تھا
کہ اب اس حصار کے اندر کوئی نہیں رہتا۔ لیکن اس کے برعکس شواہد موجود ہیں۔ خاص شاموں
میں، جب فضا سازگار ہوتی ہے، تو شہر سے دُھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جو
سیدھا آسمان کی طرف جاتا ہے، بالکل بخوردانوں کے دھوئیں کی طرح۔ یہ اس بات کی
علامت ہے کہ وہاں انسان بستے ہیں، وہ آگ جلاتے ہیں اور اپنا کھانا پکاتے ہیں۔ مزید
برآں ایک اور بھی ٹھوس حقیقت موجود ہے: کچھ عرصہ قبل ان دروازوں میں سے ایک دروازہ
کھلا تھا۔‘‘
’’کب؟‘‘
’’سچ کہوں تو، تاریخ غیر یقینی ہے۔ بعض لوگوں
کا کہنا ہے کہ یہ ایک سے ڈیڑھ مہینہ پہلے کی بات ہے۔ تاہم، دوسرے اصرار کرتے ہیں
کہ یہ واقعہ بہت پہلے، دو، تین، یا شاید چار سال قبل پیش آیا تھا۔ کچھ لوگ تو اسے
اس دؤر سے منسوب کرتے ہیں جب سلطان احمد ارگن کی حکومت تھی۔‘‘
’’اور سلطان احمد ارگن کا دؤرِ حکومت کب تھا؟‘‘
’’تقریباً تین صدیاں قبل۔ لیکن آپ نہایت خوش
قسمت ہیں، میرے آقا۔ دیکھیے: گو کہ دوپہر کا وقت ہے اور جھلسا دینے والی لُو ہے، پھر بھی دھواں نمودار
ہو رہا ہے۔‘‘
شدید گرمی کے باوجود، اس رنگ برنگی خیمہ بستی
میں اچانک ایک ہیجان سا پھیل گیا تھا۔ سب لوگ باہر نکل آئے تھے اور اب وہ ان دو
لرزتی ہوئی سرمئی لکیروں کی جانب اشارہ کر
رہے تھے جو فصیل کے کناروں سے پرے ساکت ہوا میں بلند ہو رہی تھیں۔ مجھے ان کی
پرجوش، ایک دوسرے پر سبقت لے جاتی ہوئی مہمل آوازوں کی ذرا بھی سمجھ نہ آئی۔ تاہم،
ان کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ دھوئیں کی وہ دو معمولی لکیریں جیسے کائنات کی سب سے
حیرت انگیز چیزیں ہوں، گویا وہ تماشائیوں کو نوید دے رہی ہوں کہ خوشیاں بس چند قدم
کے فاصلے پر ہیں۔ مجھے یہ شغل درج ذیل وجوہات کی بنا پر مبالغہ آمیز لگا:
اوّل یہ کہ، دھواں نمودار ہونے کا یہ مطلب ہرگز
نہیں کہ کسی دروازے کے کھلنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ لہٰذا یہ خوشی منانے کا کوئی
معقول جواز نہیں تھا۔
دوم، اگر یہ شوروغوغا فصیل کے پار سنا گیا (جس
کا قوی امکان تھا)، تو یہ باشندگانِ شہر کو دروازے کھولنے کی ترغیب دینے کی بجائے،
انہیں باز رکھنے کا باعث بنے گا۔
سوم، دھواں، بذات خود اس بات کی دلیل نہیں کہ آناگور
میں کوئی آبادی ہے۔ کیا یہ تیز دھوپ کے باعث لگنے والی کسی حادثاتی آگ کا نتیجہ
نہیں ہو سکتا؟ لیکن زیادہ قرین قیاس یہ تھا کہ یہ آگ ان لٹیروں نے لگائی ہو گی جو
کسی خفیہ راستے سے اس مردہ، ویران شہر کو لوٹنے کے لیے داخل ہوئے ہوں گے۔ میں نے
سوچا، یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ دھوئیں کے علاوہ، آناگور میں زندگی کا کوئی اور
نشان کبھی نہیں دیکھا گیا؛ کوئی غلغلہ، موسیقی، کتوں کے بھونکنے کی آوازیں، منادی،
یا فصیل کے کناروں سے جھانکتے ہوئے متجسس لوگ—کبھی کچھ بھی نہیں۔ بہت عجیب معاملہ۔
پھر میں نے کہا، ’’مجھے بتاؤ، ماگالون، جب وہ
دروازہ کھلا، تو کتنے لوگ اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے؟‘‘
’’صرف ایک آدمی،‘‘ماگالون نے کہا۔
’’اور باقی لوگ؟ کیا انہیں واپس دھکیل دیا
گیا؟‘‘
’’وہاں کوئی اور تھا ہی نہیں۔ جو دروازہ کھلا،
وہ سب سے چھوٹا تھا، اور زائرین کے لیے قابلِ توجہ نہیں تھا۔ اس دن وہاں کوئی منتظر نہیں تھا۔ شام
کے قریب وہاں ایک مسافر آیا اور اس نے
دستک دی۔ اسے قطعی علم نہیں تھا کہ آناگور شہر کیسا ہے، اور نہ ہی اسے اہلِ شہر سے
کسی خاص چیز کی حاجت تھی۔ اس نے محض ایک
رات کی پناہ مانگی تھی۔ وہ کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا؛ بس
اتفاقاً وہاں آ پہنچا تھا۔ شاید صرف اسی
وجہ سے انہوں نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا۔‘‘
***
جہاں تک میرا تعلق ہے، میں نے فصیل کے باہر
تقریباً چوبیس سال فروکش ہو کر انتظار کیا
ہے۔ لیکن کوئی دروازہ نہیں کھلا۔ اور اب میں اپنے وطن واپس جا رہا ہوں۔ ڈیرا ڈالے
بیٹھے زائرین، میرے کوچ کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے افسوس سے سر ہلا رہے ہیں۔
’’آہ دوست، تم کتنے جلد باز ہو!‘‘ وہ کہتے ہیں۔
’’ سبحان اللہ، تھوڑے اور صبر میں کیا حرج ہے؟ تم زندگی سے کچھ زیادہ ہی امید
باندھ لیتے ہو۔‘‘
***
(لارنس وینوتی کے انگریزی ترجمہ سے)
THE WALLS OF ANAGOOR by DINO BUZZATI

Comments
Post a Comment