افسانہ نمبر 733 : دُنیا کا اختتام || مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی) || مترجم: خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

 افسانہ نمبر 733 : دُنیا کا اختتام

مصنف: دینو بوتزاتی (اٹلی)

مترجم: خالد فرہاد دھاریوال (سیالکوٹ)

 


ایک صبح، تقریباً گیارہ بجے، شہر کے آسمان پر ایک بہت بڑا مُکا نمودار ہوا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ ایک پنجے کی طرح کھلتا گیا اور موت کے ایک عظیم چنگل کی مانند فضا میں ساکت ہو گیا۔ بظاہر وہ گوشت کا بنا ہوا معلوم ہوتا تھا، مگر نہیں، وہ گوشت نہیں تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے پتھر سے تراشا گیا ہو، مگر وہ پتھر بھی نہیں تھا۔ گمان گزرتا تھا کہ بادلوں سے بنا ہے، مگر وہ بادل بھی نہیں تھا۔ وہ قیامت کی نشانی  تھا۔ ایک سرگوشی جو تھوڑی ہی دیر میں آہ و بکا اور پھر چیخ و پکار میں بدل گئی، ہر طرف پھیل گئی۔ یہ آواز ایک مربوط، اور ہولناک صدا کی صورت اختیار کر گئی اور صور کی گونج بن کر آسمان کی طرف بلند ہوئی۔

لوئیزا اور پیئترو، اس پہر کی ملائم دھوپ میں ایک ایسے چوراہےپر موجود تھے جو شاندار عمارتوں اور باغات سے گھرا ہوا تھا۔ آسمان میں، ایک غیر معین بلندی پر وہ ہاتھ اب بھی معلق تھا۔ کھڑکیاں داد خواہی اور دہشت بھری چیخوں کے ساتھ کھل رہی تھیں اور نازک لباس پہنے نوجوان خواتین کے سر اس کا نظارہ کرنے کے لیےباہر نکل رہے تھے۔ شہر کی وہ ابتدائی چیخ اب مدہم پڑ رہی تھی اور لوگ تقریباً دوڑتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔ وہ محسوس کر رہے تھے کہ انہیں متحرک ہونے یا کچھ نہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کس کا سہارا لیں۔

لوئیزا رونے لگی اور ہچکیاں لیتے ہوئے بولی: ’’میں جانتی تھی کہ انجام یہی ہونا ہے…… کبھی چرچ نہیں گئی، کبھی دعا نہیں مانگی……  میں ہر چیز سے بے نیاز تھی، مجھے ذرا برابر پرواہ نہیں تھی اور اب……  مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا!‘‘ پیئترو اسےتسلی دینے کے لیے بھلا کیا کر سکتا تھا؟ وہ خود بھی بچے کی طرح بلک رہا تھا۔ بلکہ اکثر لوگ، خصوصاً عورتیں زار و قطار رو رہی تھیں۔ اس ہنگامے میں صرف دو بوڑھے، چاق و چوبند پادری، قدم سے قدم ملاتے ہوئے، شاداں و فرحاں جا رہے تھے اور معزز راہگیروں کو خوشی سے بتا رہے تھے: ’’او مکارو! کھیل ختم! اب تو مکاری سے باز آؤ گےنا؟ کیوں؟ اب جیت ہماری ہے!‘‘ (اور وہ مسکرا رہے تھے)۔ ’’تم ہمیشہ ہمارا مذاق اڑاتے تھے، ہمیں احمق مومن سمجھتے تھے، اب دیکھتے ہیں کہ اصل مکار کون ہے!‘‘

وہ مدرسےکے بچوں کی طرح نہال تھے اور اس جمِ گفیر کے درمیان سے گزر رہے تھے جو انہیں بہت بری نظروں سے دیکھ رہا تھا، مگر کسی میں ردعمل دینے کی جرات نہیں تھی۔ ابھی انہیں ایک تنگ گلی میں نظروں سے اوجھل ہوئے چند ثانیے ہی ہوئے تھے کہ ایک شخص، گویا اس نے کوئی بہت قیمتی موقع گنوا دیا ہو، غیر ارادی طور پر ان کے پیچھے بھاگا اور تاسف سے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے چلایا: ’’کیسی مصیبت ہے! ہم کتنے بڑے احمق ہیں! قسمت خود چل کر گھر کے دروازے پر آئے اور اسے جانے دیا جائے!‘‘مگر اب بھلا ان دو خوش و خرم پادریوں کی گردِ پا کو کون پہنچ سکتا تھا۔

عورتیں اور ساتھ ہی مغرور اور کڑیل مرد، ناامیدی اور دِل شکستگی کے عالم میں، کفر بکتے ہوئےگرجوں سے باہر نکل رہے تھے۔ بلند مرتبت پادری غائب ہو چکے تھے۔ شاید انہیں اعلیٰ حکام اور کارخانے داروں نے پہلے ہی سے پیشگی خرید لیا تھا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ دولت کی قدر و منزلت، باوجود اس کےکہ دنیا کا خاتمہ قریب تھا، حیرت انگیز طور پر برقرار تھی۔ شاید یہ خیال تھا کہ ابھی چند منٹ اور شاید چند دِن باقی ہیں۔ جہاں تک چرچ میں موجود خدمت پر مامور پادریوں کاتعلق تھا، وہاں ایسا ہولناک ہجوم جمع تھا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، یہاں تک کہ اژدہام کی وجہ سے ہونے والے ناخوشگوار واقعات کی خبریں آ رہی تھیں، یا ان دھوکےبازوں کا تذکرہ ہو رہا تھا جو پادریوں کا لباس پہن کر اعترافِ گناہ سننے کے لیے لوگوں کے گھروں میں جا رہے تھے اور خطیر رقمیں بٹور رہے تھے۔ دوسری طرف جوان جوڑے تیزی سے دوسروں سے الگ ہو رہے تھے اور بغیر کسی جھجک کے، آخری عشق بازی کے لیے گھاس پر ڈھیر ہو رہے تھے۔ اسی دوران سورج کی حدت سےوہ آسمانی ہاتھ پہلے سے زیادہ زرد نظر آنے لگا تھا اور اس طرح مزید سراسیمگی پیدا کر رہا تھا۔ افواہ پھیلی کہ قیامت بالکل قریب ہے۔ بعض کو یقین تھا کہ دوپہر تک کی بھی مہلت نہیں ملے گی۔

اس دوران، ایک خوبصورت عمارت کے برآمدے میں، جو زمین سے دو قدمچےبلند تھا، ایک جوان پادری سر جھکائے اضطراب میں ٹہل رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسےوہ عمارت کے اندر جانے سے ڈر رہا ہو۔ اس گھڑی، اس زرق برق گھر میں جو بدقماش عورتوں سے بھرا ہوا تھا، ایک پادری کی موجودگی عجیب تھی۔ ہر طرف سے آوازیں بلند ہوئیں: ’’پادری!پادری!‘‘ اس سے پہلے کہ وہ پادری فرار ہونے میں کامیاب ہوتا، لوگ بجلی کی سی تیزی سے اس کے آڑے آ گئے اور اس پر چلانے لگے: ’’ہمارا حلف لو! ہمارا اعتراف سنو!‘‘ پادری کا رنگ اُڑ گیا۔ اسے دھکیل کر ایک چھوٹی سی محراب نما جگہ پر لے جایا گیا جو ایوان سے باہر کی طرف نکلی ہوئی تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے اسی کام کے لیے بنائی گئی ہو۔ دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں مرد و عورتوں کا ایک گروہ شور مچاتا ہوا دھکم پیل کرنے لگا، ہر کوئی ستونوں اور منقش منڈیروں کا سہارا لے کر محراب تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔

پادری نے اعترافِ گناہ سننا شروع کیا اور تیزی سے ان اجنبیوں کی باتوں پر کان دھرنے لگا جو ہانپتے ہوئے اپنے گناہوں کا اقرار کر رہے تھے (اور انہیں اس بات کی قطعی فکر نہیں تھی کہ کوئی دوسرا ان کی باتیں سن رہا ہے)۔ اس سے پہلے کہ ان کی بات ختم ہوتی، وہ اپنے دائیں ہاتھ سے صلیب کا مختصر نشان بناتا، انہیں معافی دیتا اور فوراً اگلے گناہ گار کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ مگر ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ پادری پریشانی سے اپنے اردگرد دیکھتا اور گناہ گاروں کے اس بڑھتے ہوئے سمندر کا جائزہ لیتا، جسے ابھی بخشواناباقی تھا۔ لوئیزا اور پیئترو بھی بمشکل اس تک پہنچے اور اپنی باری کا فائدہ اٹھاتےہوئے اپنی بات پادری کے گوش گزار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ نوجوان عورت، اس خوف سے کہ کہیں وقت ختم نہ ہو جائے، جنونی عجلت میں چلائی: ’’میں کبھی عبادت کے لیے نہیں جاتی۔  میں جھوٹ بولتی ہوں….. اور جو بھی دیگر گناہ تم چاہو…… اس میں شامل کر لو…… اور میں یہاں کسی خوف کے باعث نہیں آئی ہوں، میری بات کا یقین کیجئے کہ میں خدا کے قرب کی آرزو مند ہوں، میں قسم کھاتی ہوں کہ……۔‘‘ اور اسے یقین تھا کہ وہ سچ کہہ رہی ہے۔ پادری بڑبڑایا: ’’میں تمہیں بخشتا ہوں……۔‘‘ اور پیئترو کی بات سننے لگا۔

لیکن لوگوں میں ایک ناقابلِ بیان اضطراب نمایاں ہو گیا۔ کسی نے پوچھا: ’’قیامت میں کتنا وقت باقی ہے؟‘‘ ایک دوسرے شخص نے جو بظاہر پوری طرح باخبر تھا، اپنی گھڑی دیکھی اور تحکمانہ لہجے میں کہا: ’’دس منٹ!‘‘ یہ بات پادری نے سن لی اور یکایک اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی۔ مگر غیر مطمئن لوگوں نے اُسے پکڑ لیا۔ اس کی کیفیت بخار میں مبتلا شخص کی سی تھی اور واضح تھا کہ اعترافات کی چیخیں اس تک کسی بے معنی شور کی طرح پہنچ رہی ہیں۔ وہ ایک کے بعد دوسرے پر صلیب کا نشان بناتا اور خودکار طریقے سے دہراتا: ’’میں تمہیں بخشتا ہوں…….۔‘‘

ہجوم کے اندر سے ایک شخص کی آواز آئی: ’’آٹھ منٹ!‘‘

پادری اب باقاعدہ کانپ رہا تھا۔ وہ اپنے پاؤں مرمریں فرش پر اس طرح پٹخ رہا تھا جیسے بچے کسی چیز کا مطالبہ کرتے وقت ضد کرتےہیں۔ اس نے مایوسی کےعالم میں التجائیں شروع کر دیں: ’’پھر میرا کیا ہوگا؟ میرا کیا بنے گا؟‘‘ وہ بدبخت اسے اس کی اپنی نجات سےمحروم کر رہے تھے۔ بھاڑ میں جائیں یہ سب کے سب۔ مگر وہ خود کو کیسے آزاد کراتا؟ وہ اپنی فکر کیسے کرتا؟ اب اس کے آنسو نکلنے ہی والے تھے۔ وہ جنت کے ان ہزاروں نئے اور حریص دعویداروں سے پوچھ رہا تھا:

’’پھر میرا کیا ہوگا؟ میرا کیا بنے گا؟‘‘

مگر کوئی بھی اس کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا۔

°°°°

'The End of the World' by Dino Buzzati

  

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)