افسانہ نمبر 724 : گم شدہ ڈاک، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 724
: گم شدہ ڈاک
تحریر : آر کے نارائن (بھارت)
اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)
اگرچہ اس کا علاقۂ تقسیم ونایک مُدالی اسٹریٹ اور اس
کے ساتھ متوازی چار سڑکوں پر مشتمل تھا، پھر بھی اسے اپنا چکر مکمل کرنے اور کھاتے
جمع کرانے کے لیے مارکیٹ روڈ پر واقع ہیڈ آفس واپس پہنچنے میں قریب چھ گھنٹے لگ
جاتے۔ وہ خود بھی اُن لوگوں کی قسمتوں اور حالات میں شامل ہو جاتا تھا جن کے نام
وہ خطوط لے کر جاتا تھا۔ کبیر اسٹریٹ نمبر 13 پر وہ شخص رہتا تھا جو برسوں سے آدھ
رستے تک آ کر خط کا پوچھا کرتا تھا۔ تھناپا نے اسے نوجوانی میں دیکھا تھا، اور پھر
روز بہ روز اسے تھڑے پر بیٹھے دیکھتا رہا٬ بال آہستہ آہستہ سفید ہوتے گئے، اور وہ
وہیں بیٹھا اس آس میں کراس ورڈ پہیلیاں حل
کرتارہا کہ کے صلے میں کسی دن کوئی بڑا انعام اسکی قسمت میں ہو گا۔
"ابھی
تک کوئی انعام نہیں،" وہ روز اسے بتاتا۔
“مگر دل چھوٹا نہ
کیجیے۔"
کسی دوسرے سے وہ کہتا، "اس مہینے آپ کا سود کسی
وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔"
"حیدرآباد
سے آپ کے بیٹے کا پھر خط آیا ہے، بی بی۔ اب اس کے کتنے بچے ہو گئے ہیں؟"
"مجھے
معلوم ہی نہ تھا کہ آپ نے مدراس کی اس نوکری کے لیے درخواست دی ہے؛ آپ نے بتایا ہی
نہیں! خیر، کوئی بات نہیں۔ جب میں آپ کا تقررنامہ لے کر آؤں گا تو آپ مجھے ناریل
کی کھیر ضرور کھلانا۔ اور ان میں سے ہر جگہ وہ تقریباً آدھا گھنٹہ ٹھہرتا۔ خاص طور
پر اگر کسی کو منی آرڈر ملا ہوتا تو وہ بڑے سلیقے سے وہیں جم کر بیٹھ جاتا٬ اپنے
تھیلے اور گٹھڑیاں پھیلا لیتا اور تب تک نہ اٹھتا جب تک یہ اندازہ نہ کر لیتا کہ
ہر روپیہ کہاں اور کیسے خرچ ہونے والا ہے۔ اگر دن بہت گرم ہوتا تو کبھی کبھی وہ
ایک گلاس چھاچھ مانگ لیتا اور بیٹھ کر مزے سے پینے لگتا۔ اس کے علاقے کے سب لوگ
اسے پسند کرتے تھے۔ وہ ان کی زندگی٬ امیدوں، آرزوؤں اور سرگرمیوں کا لازمی حصہ بن
چکا تھا۔
اپنے تمام رابطوں میں، جس پتے سے اس کا رشتہ سب سے
زیادہ گہرا اور مضبوط تھا، وہ ونایک مُدالی اسٹریٹ نمبر 10 تھا۔ رمنوجم محکمۂ
محصولات کے دفتر میں ایک سینئر کلرک تھا، اور تھناپا ایک پوری نسل سے اس پتے پر
خطوط پہنچاتا آ رہا تھا رمنوجم کے ساتھ اس کی پہلی شناسائی سالہا سال پہلے کی تھی۔
رمنوجم کی بیوی گاؤں گئی ہوئی تھی۔ رمنوجم کے نام ایک کارڈ آیا۔ تھناپا نے حسبِ
معمول، چھانٹنے کی میز پر ہی اس پر ایک نظر ڈالی؛ اور جیسے ہی روانگی کا وقت آیا،
وہ سیدھا ونایک مُدالی اسٹریٹ کی طرف چل پڑا، حالانکہ معمول کے مطابق اس سے پہلے
ڈیڑھ سو سے زیادہ پتے آتے تھے۔ وہ سیدھا رمنوجم کے گھر پہنچا، دروازہ کھٹکھٹایا
اور آواز دی:
"ڈاکیا
صاحب، ڈاکیا!"
جب رمنوجم نے دروازہ کھولا تو وہ بولا:
"اس
کارڈ کے بدلے مجھے پہلے ایک مُٹھی بھر چینی دیجیے۔ مبارک ہو، آپ باپ بن گئے ہیں!
اتنے برسوں کی دعاؤں کے بعد آخرکار! یہ مت کہیے گا کہ بیٹی ہوئی ہے۔ بیٹیاں تو خدا
کی نعمت ہوتی ہیں، آپ جانتے ہیں۔ … کاماکشی—کتنا پیارا نام ہے!"
"کاماکشی"٬
برسوں بعد وہ قدآور، شرمیلی لڑکی سے مخاطب ہوا:" اپنی تصویر تیار رکھنا۔ ارے،
اتنی شرمیلی کیوں! یہ لو، تمہارے نانا کا کارڈ آیا ہے، وہ تمھاری تصویر مانگ رہے
ہیں۔ آخر وہ کیوں چاہیں گے، اگر یہ بات نہ ہو کہ
…"
"بڑے
میاں اب ذرا زیادہ ہی خط لکھنےلگے ہیں، ہے نا صاحب؟"اس نے رمنوجم سے کہا، جب
وہ اسے خط دے کر وہیں کھڑا رہا کہ وہ لفافہ کھولے اور اس کا مضمون دیکھ لے۔ خط پڑھ
کر رمنوجم فکر مند نظر آیا۔ ڈاکیے نے پوچھا:"امید ہے، یہ اچھی خبر ہوگی؟"
وہ برآمدے کے ستون سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا٬ اس کی
بغل میں اب بھی پہنچانے والے خطوط کا ایک پلندہ دبا ہوا تھا۔ رمنوجم نے
کہا:"میرے سسر سمجھتے ہیں کہ میں اپنی بیٹی کے لیے شوہر تلاش کرنے میں پوری
طرح سرگرم نہیں ہوں۔ انھوں نے ایک دو جگہ خود کوشش کی اور ناکام رہے۔ اب انھیں
لگتا ہے کہ میں لا پروائی برت رہا ہوں …" "بزرگوں کی اپنی فکریں ہوتی ہیں،"
ڈاکیے نے جواب دیا۔
"مسئلہ
یہ ہے،" رمنوجم نے کہا، "کہ انھوں نے اس بچی کی شادی کے لیے پانچ ہزار
روپے الگ رکھ چھوڑے ہیں اور مجھ پر زور ڈال رہے ہیں کہ فوراً اس کے لیے شوہر
ڈھونڈوں۔ مگر پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا …"
"نہیں،
نہیں،" ڈاکیے نے تائید کی، "جب تک قسمت کی گھڑی نہ آ جائے، کچھ بھی کام
نہیں آتا …"
مہینوں تک، روز بہ روز، تھناپا
خطوط پہنچاتا رہا اور خبر سننے کے لیے ٹھہرا رہتا:'وہی
پرانی بات ہے، تھناپا … کنڈلیاں نہیں ملتیں … مطالبے بہت زیادہ ہیں … صاف ظاہر ہے،
انھیں اس کی صورت پسند نہیں آئی۔"
"صورت!"
ڈاکیے نے غصے سے جواب دیا، "وہ تو ملکہ جیسی دکھتی ہے۔ جب تک آدمی بالکل
اندھا نہ ہو …" شادی کا موسم ختم ہونے کو تھا؛ صرف تین مبارک تاریخیں باقی
تھیں، اور آخری تاریخ بیس مئی تھی۔ لڑکی چند ہی دنوں میں سترہ برس کی ہونے والی
تھی۔ نانا کی طرف سے یاد دہانیاں اور بھی سخت ہوتی جا رہی تھیں۔ رمنوجم تمام ممکنہ
طریقے آزما چکا تھا اور ہر جگہ ناکامی ہاتھ آئی تھی۔ وہ بے بس اور افسردہ دکھائی
دیتا تھا۔ "ڈاکیے،" اس نے کہا، "مجھے تو لگتا ہے میرے نصیب میں
کہیں کوئی داماد ہی نہیں …"
"ارے
صاحب، ایسے نامبارک الفاظ نہ کہیے،"
ڈاکیے نے کہا۔ جب خدا کی مرضی ہوگی …"وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا:
“دہلی میں ایک لڑکا
ہے، دو سو روپے کماتا ہے۔ ٹیمپل اسٹریٹ کا مکندا اس کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ میرا
خیال ہے مکندا اور آپ ایک ہی ذیلی ذات سے ہیں
…"
"جی
ہاں …"
"وہ
لوگ اب مہینوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ اب تک ان کے درمیان سو سے زیادہ خطوط کا
تبادلہ ہو چکا ہے … مگر میں جانتا ہوں کہ اب یہ معاملہ یقینی طور پر ختم رہا ہے۔ …
یہ سب کسی مالی معاملے کی وجہ سے ہے۔ … انھوں نے اپنا آخری پیغام ایک پوسٹ کارڈ پر
لکھا ہے، اور اس بات نے ان لوگوں کو اور بھی برہم کر دیا ہے گویا پوسٹ کارڈ توہین
کا کوئی آلہ ہو! میں نے تو نہایت اہم پیغامات بھی تصویری پوسٹ کارڈوں پر لکھے جاتے
دیکھے ہیں؛ جب راجپا دو برس پہلے امریکہ گیا تھا تو وہ ہر ہفتے اپنے بیٹوں کو
تصویری پوسٹ کارڈ پر خط لکھتا تھا …"اس ضمنی بات کے بعد وہ پھر اصل موضوع کی
طرف لوٹا۔"میں مکندا سے کہوں گا کہ کنڈلی دے دے۔ ذرا دیکھتے ہیں …" اگلے
دن وہ کنڈلی اپنے ساتھ لے آیا۔" لڑکے کے والدین بھی دہلی ہی میں ہیں، اس لیے
آپ فوراً انھیں لکھ سکتے ہیں۔ اب وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔"
امید کی ایک کرن رمنوجم کے گھرانے کو چھو گئی۔
"مجھے
ابھی سو خطوط پہنچانے ہیں، مگر میں سب سے
پہلے یہاں اس لیے آیا ہوں کہ اس پر دہلی کی مہر دیکھی ہے … اسے کھولیے اور مجھے
بتائیے کہ انھوں نے کیا لکھا ہے،" تھناپا نے کہا۔ وہ تجسس سے کانپ رہا تھا۔
"یہ
لوگ کتنے مستعد ہیں! تو انھوں نے تصویر پسند کر لی! آخر کون نہ کرتا؟"
"ہر روز ایک خط! بہتر ہے میں کاماکشی کی شادی تک رخصت ہی لے لوں …" اس
نے ایک اور دن کہا۔
"آپ
تو ایسے بات کر رہے ہیں جیسے یہ سب کل ہی ہونے والا ہو! خدا جانے ابھی کتنی
رکاوٹیں پار کرنی پڑیں گی۔ صرف تصویر پسند آ جانا کچھ ثابت نہیں کرتا …"
خاندان کی مجلس ایک اہم سوال پرغور کر رہی تھی: کیا
رمنوجم کو لڑکی کو ساتھ لے کر مدراس جانا چاہیے اور وہاں اس فریق سے ملنا چاہیے،
جو دہلی سے ایک دن کے لیے آ سکتا تھا؟ اس مسئلے پر خاندان کے اندر اختلاف تھا۔
رمنوجم، اس کی ماں اور اس کی بیوی — کسی کے بھی خیالات اس بارے میں واضح نہیں تھے،
پھر بھی وہ ایک دوسرے کی سخت مخالفت کر رہے تھے۔
"اگر
ہم لڑکی کو دکھانے کے لیے اِدھر اُدھر لے گئے تو
شہر بھر میں ہمارا مذاق اُڑایا جائے گا،" رمنوجم کی بیوی نے کہا۔
"یہ
کیسے عجیب خیالات ہیں! اگر تم ان بے معنی، فرسودہ رسم و رواج پر اڑی رہو گی تو
شادی کے قریب بھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ ضرورت پڑے تو ہمیں لڑکی کو دہلی تک لے جانا
ہمارا فرض ہے …"
"تو
پھر یہ تمہاری مرضی ہے؛ جو چاہو کرو؛ مجھ سے مشورہ ہی کیوں کرتے ہو؟ …"
مزاج بگڑ چکے تھے اور کسی پیش
رفت کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ وقت گزرتا جا رہا
تھا۔ ڈاکیا دن بھر کا کام ختم کرنے کے بعد آ کر بیٹھنے کا عادی ہو گیا تھا اور
مجلسِ مشاورت میں شامل ہونے لگا تھا۔ "میں ایک تیسرا فریق ہوں۔ میری بات سن
لیجیے،" اس نے کہا۔"صاحب، فوراً مدراس کی گاڑی پکڑ لیجیے۔ جو نتیجہ آپ
ایک سال کی خط و کتابت سے حاصل نہیں کر سکتے، وہ ایک گھنٹے کی ملاقات سے مل ہو
جاتا ہے۔"
"بی
بی، مدراس سے ایک خط آیا ہے۔
مجھے
یقین ہے یہ آپ کے شوہر کی طرف سے ہے۔ کیا خبر ہے؟" اس نے لفافہ رمنوجم کی
بیوی کے ہاتھ میں دیا، اور وہ پڑھنے کے لیے اندر چلی گئی۔ وہ بولا: "ان آخری
گھروں کے لیے میرے پاس کچھ رجسٹرڈ خطوط ہیں۔ میں اپنا چکر پورا کر کے واپس آتا ہوں …"
وہ وعدے کے مطابق لوٹا۔ "بی بی، کیا ان کی ملاقات
ہو گئی؟"
"جی
ہاں، کاماکشی کے والد نے لکھا ہے کہ انھوں نے لڑکی کو دیکھ لیا ہے، اور ان کی بات
چیت سے کاماکشی کے والد کو یہی اندازہ ہوا ہے کہ وہ پوری طرح راضی ہیں …"
"زبردست
خبر! آج رات میں ہمارے وِنایکاکو ایک ناریل چڑھاؤں گا۔"
"لیکن"،
خاتون نے خوشی سے مغلوب اور فکر میں ڈوبی
ہوئی آواز میں کہا ٬ "ایک مشکل یہ ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ کام آئندہ تھائی [1]کے مہینے میں کریں گے … اب اتنی جلدی
انتظامات کرنا بہت مشکل ہوگا۔ مگر وہ کہتے ہیں کہ اگر شادی کرنی ہے تو بیس مئی ہی
کو کرنی ہوگی۔ اگر اسے مؤخر کیا گیا تو لڑکا تین برس تک شادی نہیں کر سکے گا۔ اسے
کسی تربیت کے لیے بھیجا جا رہا ہے …"
"بڑے
میاں اپنے قول کے پکے ہیں،"
ڈاکیے
نے کہا، اور رمنوجم کے ہاتھ میں انشورنس کا ایک لفافہ تھماتے ہوئے بولا۔
“انھوں نے پوری رقم
بھیج دی ہے۔ اب آپ کو سرمائے کی کمی کی شکایت نہیں ہو سکتی۔ آگے بڑھئے۔ مجھے بے حد
خوشی ہے کہ آپ کو ان کی منظوری حاصل ہے۔ ان کے پیسوں سے بڑھ کر ہمیں ان کی دعاؤں
کی ضرورت ہے، صاحب۔ امید ہے انھوں نے دل سے دعائیں بھیجی ہوں گی …"
"جی
ہاں، جی ہاں،" رمنوجم نے جواب دیا،
"میرے
سسر اس رشتے پر بہت خوش نظر آتے ہیں …"
پانچ ہزار روپے کی شادی مالگڑی جیسے شہر میں ایک بڑا معاملہ تھی۔ اتنا کم
وقت سامنے ہو، اور انتظامات بانٹنے والا کوئی نہ ہو، تو رمنوجم سخت پریشان ہو گیا۔
جہاں تک ممکن ہوا، تھناپا نے اپنے فارغ اوقات میں خود کو اس کی خدمت کے لیے وقف کر
دیا۔ اس نے دوسرے گھروں میں اپنی باتوں، نصیحتوں اور میل جول کو مختصر کر دیا۔ وہ
اب کسی کے آنے کا انتظار نہیں کرتا تھا کہ خط لے جائے؛ بس کھڑکی یا کھلے دروازے سے
خط پھینک دیتا اور زور دار آواز لگاتا :
“خط ہے، صاحب!”
اگر کوئی اسے روک کر پوچھتا،
“کیا بات ہے؟ اتنی
جلدی میں کیوں ہو؟”
تو وہ کہتا:
"ہاں،
بیس مئی تک مجھے چھوڑ دیجیے۔ اس کے بعد میں آ کر تمہارے گھر ہی جم جاؤں گا!"
اور وہ غائب ہونے کی کرتا۔ رمنوجم شدید دباؤ میں تھا۔
جیسے جیسے دن قریب آتا جاتا، اس کی بے چینی بڑھتی جاتی۔ "سب کچھ بخیریت ہونا
چاہیے۔ کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔"
"فکر
نہ کیجیے، صاحب؛ خدا کے فضل سے سب خوش اسلوبی سے ہو جائے گا۔ آپ نے انھیں نقدی،
تحائف اور شان و شوکت سب کچھ دے دیا ہے۔ وہ اچھے لوگ ہیں
…"
"بات
یہ نہیں ہے۔ یہ سال کی بالکل آخری تاریخ ہے۔
اگر کسی وجہ سے کوئی رکاوٹ پیدا ہو گئی تو پھر سب کچھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے
گا۔ لڑکا تین برس کے لیے چلا جائے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم میں سے کوئی بھی تین
سال انتظار کرنے کے لیے خود کو آمادہ کر پائے گا۔"
شادی کے دن مُہورت نکلے چار گھنٹے
ہو چکے تھے۔ مجمع پر ایک خاموشی طاری ہو گئی تھی۔ دہلی
سے آیا ہوا نوجوان، خوش وضع دولھا پنڈال میں ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ صندل کی
خوشبو، پھولوں کی مہک اور مقدس دھوئیں کی لطیف فضا ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ
دولھے کے گرد بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
تھناپا خطوط سے لدا ہوا دروازے پر نمودار ہوا۔ چند
نوجوان اس کی طرف لپکے اور پکارے:
“ڈاکیے! کوئی خط؟”
اس نے انھیں روکا:
“پیچھے ہٹو۔ مجھے
معلوم ہے کس کو دینا ہے۔"
وہ دولھے کے پاس گیا اور نہایت احترام سے خطوط کا ایک
پلندہ اسے تھما دیا۔
"میرا
خیال ہے یہ سب خیرخواہوں کی طرف سے مبارک باد اور دعاؤں کے خطوط ہیں، صاحب٬ اور ان
میں میرا حصہ بھی ہر ایک کے ساتھ شامل ہے …" وہ اس خدمت پر بہت فخر محسوس کر
رہا تھا اور غیر معمولی سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ دولھے نے مسکراتے ہوئے اس کی
طرف دیکھا اور زیرِ لب کہا:
"شکریہ۔"
"ہم سب کو فخر ہے کہ آپ جیسی معزز شخصیت اس گھر کے داماد بنے ہیں۔ میں اس
بچی، کاماکشی، کو اس کے پہلے دن سے جانتا ہوں، اور مجھے یقین تھا کہ اسے ہمیشہ
کوئی معزز شوہر ہی ملے گا،" ڈاکیے نے مزید کہا، پھر ادب سے ہاتھ جوڑ کر پرنام
کیا اور گھر کے اندر چلا گیا تاکہ باقی خطوط پہنچائے اور باورچی خانے میں ٹفن اور
کافی سے اپنی تھکن اتارے۔
دس دن بعد اس نے پھر دروازہ کھٹکھٹایاہے اور مسکراتے
ہوئے کاماکشی کو اس کا پہلا خط تھمایا : "آہ، خوشبودار لفافہ! مجھے تب ہی
معلوم تھا یہ آنے والا ہے جب ڈاک گاڑی تین اسٹیشن دور ہی تھی۔ میں نے ایسے سیکڑوں
خطوط دیکھے ہیں۔ میری بات مان لو: دسویں
خط سے پہلے ہی وہ تمھیں سامان باندھ کر اپنے پاس آ جانے کا حکم دے گا، اور تم دو
پر لگا کر اسی دن اُڑ جاؤ گی اور ہمیشہ کے لیے تھناپا اور اس گلی کو بھول جاؤ گی،
ہے نا؟"
کاماکشی شرما گئی، اس کے ہاتھوں سے خط جھپٹ لیا اور
پڑھنے کے لیے اندر بھاگ گئی۔ تھناپا نے مُڑتے ہوئے کہا: "مجھے نہیں لگتا کہ
تمھارے خط ختم کرنے اور اس کا حال مجھے سنانے کا انتظار کرنے کا کوئی فائدہ ہے۔"
ایک چھٹی والے دن، جب اسے یقین تھا کہ رمنوجم گھر پر ہو گا، تھناپا نے
دروازہ کھٹکھٹایا اور اسے ایک کارڈ تھما دیا۔
"آہ!"
رمنوجم چلّا اٹھا۔"بری خبر ہے، تھناپا۔ میرے چچا میرے والد کے بھائی سیلم [2]میں بہت بیمار ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ میں
فوراً روانہ ہو جاؤں۔"
"یہ
سن کر مجھے بہت افسوس ہوا، صاحب، تھناپا نے کہا اور اسے ایک تار تھما دیا۔
"یہ
ایک اور ہے …"
رمنوجم چیخ پڑا:
"تار!"
اس نے اس پر ایک نظر ڈالی اور چلّایا:
"اوہ!
وہ تو مر گئے!"
وہ صدمہ برداشت نہ کر سکا اور تھڑے پر بیٹھ گیا۔ تھناپا
بھی اتنا ہی افسردہ نظر آیا۔ رمنوجم نے خود کو سنبھالا، ہمت باندھی اور اندر جانے
کو مڑا۔ تھناپا بولا: "ایک لمحہ ٹھہریے، صاحب۔ مجھے ایک اقرار کرنا ہے۔ اس
کارڈ کی تاریخ دیکھیے۔"
"انیس
مئی٬ قریب پندرہ دن پہلے کی!"
"جی
صاحب، اور اس کے اگلے دن تار آیا تھا—یعنی شادی کے دن۔ اسے دیکھ کر مجھے بہت دکھ
ہوا تھا … مگر میں نے خود سے کہا: ‘جو ہو چکا، سو ہو چکا،’ اور اسے چھپا کر رکھ
لیا، اس ڈر سے کہ کہیں شادی میں خلل نہ پڑ جائے
…"
رمنوجم نے ڈاکیے کو گھور کر دیکھا
اور کہا:"جب وہ موت کے قریب تھے تو میں شادی کرنے
پر راضی نہ ہوتا …"ڈاکیا سر جھکائے کھڑا رہا اور بڑبڑایا: "آپ چاہیں تو
شکایت کر سکتے ہیں، صاحب۔ وہ مجھے ملازمت سے نکال دیں گے۔ یہ ایک سنگین جرم
ہے۔" وہ مُڑا، سیڑھیاں اُتر کر نیچے سڑک پر اپنا چکر پورا کرنے چل پڑا۔
رمنوجم کچھ دیر اسے بے دلی سے دیکھتا رہا اور پھر پکارا:
"ڈاکیے!"
تھناپا مُڑ گیا۔ رمنوجم پکار اٹھا:
"یہ
مت سمجھیے کہ میرا ارادہ شکایت کرنے کا ہے۔ مجھے تو بس اس بات کا افسوس ہے کہ آپ
نے ایسا کیا …"
"میں
آپ کے جذبات سمجھتا ہوں، صاحب،" ڈاکیے نے جواب دیا اور موڑ کے پیچھے اوجھل ہو
گیا۔
حواشی:
[1] تھائی :تامل کیلنڈر کا دسواں مہینہ
*سیلم :تامل ناڈو کا ایک شہر
اصل عنوان : The Missing Mail
مصنف : R. K. Narayan

Comments
Post a Comment