افسانہ نمبر 714 : سچ: سات سر والا درندہ، تحریر : میوتو حاتوم (برازیل)، مترجم : محمد فیصل (کراچی)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)
افسانہ نمبر 714 : سچ: سات سر والا درندہ
تحریر : میوتو حاتوم (برازیل)
مترجم : محمد فیصل (کراچی)
وہ
عورت شاید ایک سایہ تھی جو رات کی تاریکی میں ضم ہو گیا۔ابھی تک اس کے متعلق کسی
کو کچھ بھی علم نہیںہو سکا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ شہر میں کسی قریبی قصبے سے آئی تھی
تو کوئی اسے اسی شہر کا باسی بتاتا ہے۔ کچھ شاہدین کے مطابق اس نے ہسپتال میں جانے
کی کوشش کی مگر حفاظتی گارڈ نے اسے وہاں سے بھگا دیا۔ وہ حاملہ تھی اور بچے کی پیدائش
کسی بھی وقت متوقع تھی۔ دسمبر کی اس رات شدید بارش ہو رہی تھی۔ گلیاں، بازارہر چیز
پر ایک خاموشی طاری تھی۔ اس عورت نے پناہ اور مدد کے لیے بہت ہاتھ پیر مارے مگر بے
سود۔ مدد کی آس لیے وہ شہر کے تاریخی اوپیرا ہائوس کے قریب پہنچ گئی۔ گمان ہے کہ
وہ داخلی دروازے کی بجائے عقبی ڈھلان جو سامان لے جانے کے کام آتی ہے کے ذریعے
اندر داخل ہوئی۔ اس کے پیٹ میں پہلی ٹیس اٹھی اور وہ سمجھ گئی کہ وہ مرحلہ آگیا
ہے جس کا اس نے مہینوں انتظار کیا ہے۔ اس نے ہمت مجتمع کر کے پچھلا دروازہ کھولا
اور ہال میں داخل ہو گئی۔
ہال
میں سناٹا طاری تھا۔ رفتہ رفتہ اس کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہو گئیں۔
وہ سٹیج کے پاس کھڑی تھی۔ اس نے ایک دور دراز گوشہ منتخب کیا اور دبیز قالین پر لیٹ
گئی۔ اس کا پورا جسم بھیگ چکا تھا۔ وہ شاید اس کی چیخ تھی یا بادلوں کے گرجنے کی
آواز کہ ہال میں لگے فانوس ہلنے لگے اور ان پر لگی خوب صورت گھنٹیاں آواز دینے
لگیں۔ ان آوازوں سے اوپرا ہائوس کے دروازے کے ساتھ بنے کیبن میں سویا ہوا گارڈ
جاگ اٹھا۔ اٹھاسی برس کا پرتگالی پناہ گزین پیڈروپچھے بیس برسوں سے یہاں ملازم
تھا۔ کچھ ثانیے تو اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیاکہ اس کی آنکھ کیوں کھلی ہے؟ وہ
بادلوںکا کڑکا تھا یا کسی گانے کی آواز۔ وہ خیالوں میں اس سمے پہنچ گیا جب وہ
اوپرا ہائوس میں لکڑی کے سٹیج پالش کرتا تھا اور شہر کی مشہور تریں مغنیہ وہاں
گانے آتی تھیں۔ بادل دوبارہ گرجے اور ساتھ ہی اس کے کانوں میں کسی عورت کی کراہتی
چیخ ٹکرائی۔ وہ بمشکل کھڑا ہوا۔ اس نے اپنا اوور کوٹ پہنا، چھتری اٹھائی اور برستے
مینہ میں ہال کی طرف روانہ ہوا۔
عمر
کی آٹھویں دہائی میںمختصر فاصلے بھی طویل لگتے ہیں۔ وہ ہال میں داخل ہوا۔ اس کی
چھٹی حس بتا رہی تھی کہ یہاں کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے یا ہورہا ہے۔ ہال میں اس وقت
اندھیرا تھا۔ کبھی بجلی چمکتی تو اس کی آنکھیں کچھ دیکھنے کے قابل ہوتیں۔ پیڈرو
کو پورے ہال کی بناوٹ اس طرح یاد تھی کہ وہ آنکھیں بند کرکے ایک سرے سے دوسرے سرے
تک جاسکتا تھا۔ اس نے پہلے سٹیج پر جانا مناسب سمجھا۔ سٹیج پر بنے کچھ مجسمے اسے
بے حد پسند تھے اور وہ اکثر ان کو دیر تک دیکھتا رہتا۔ سٹیج پر جا کر اسے اس ٹارچ
کا خیال آیا جو اس کی جیب میں تھی۔ اس نے ٹارچ جلائی اور سٹیج کی طرف گھمائی۔ سٹیج
کے عین وسط میں ایک بہت بڑی تصویر تھی جس میں دو دریائوں کو ملتے ہوئے دکھایا گیا
تھا۔ تصویر بہت بڑی تھی اور اس کے اطراف میں جل پریوں کے مجسمے نصب تھے۔ کچھ دیر
وہ ان کو دیکھتا رہا کہ اسے پھر ہلکی ہلکی انسانی کراہ کی آواز سنائی دی۔ اس کا
ہاتھ کانپا مگر اس نے ٹارچ کا رخ ہال کی طرف کر دیا۔ اس کی امید کے برخلاف ہال
بالکل خالی تھا۔ اس نے بے خیالی میں ٹارچ کی روشنی فانوس پر ڈالی۔ ہال جگمگا اٹھا۔
اس کی نظر ایک کونے پر پڑی جہاں ایک عورت زمین پر بیٹھی ہوئی تھی۔ پہلے تو اس نے خیال
کیا کہ یہ مجسمہ ہے مگر پھر اس نے دوبارہ غور سے اسے دیکھا۔ عورت بیس کے پیٹے میں
تھی۔ اس کے بال اس کے سینے پر پڑے تھے اور اس نے ہاتھ میں کچھ اٹھایا ہوا تھا۔
پیڈرو
نے ٹارچ کا رخ فانوس کی طرف کیے رکھا۔ اسی روشنی میں اس نے دیکھا کہ اس عورت نے ایک
بچے کو اٹھایاہوا ہے۔ وہ اسے اپنے منہ کے قریب لائی۔ پیڈرو نے سوچا شاید وہ اسے
لوری یا گانا سنائے گی مگر اس نے بچے کو چاٹنا شروع کر دیا۔ پیڈرو نے اپنی لاٹھی
زور سے زمین پر ماری مگر عورت نے اس کی طرف نظر نہ اٹھائی اور بچے کو چاٹنا جاری
رکھا۔ اچانک پیڈرو کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور اسے یوں محسوس ہوا کہ جیسے
وہ زمین پر گر گیا ہے۔ اس کے بعد کی ساری باتیں ایک خواب کی طرح اس کے ذہن کے پردے
پر آتی رہیں۔ دو سفید لباس پہنے مرد جنھوں نے اسے اٹھایا اور سٹریچر پر ڈال دیا۔
اس کے بعد اسے وہ تیز تیز چلاتے ہوئے کسی روشن کمرے میں لے گئے۔ انھوں نے اسے ایک
بستر پرڈالا اور اس کی آنکھوں میں تیز روشنی ڈالی، ٹارچ جیسی تیز روشنی۔
اگلے
دن ہسپتال کا نمائندہ کچھ صحافیوں کو بتا رہا تھا
مسٹر
پیڈرو کو ہم نے سٹیج سے اٹھایا۔ ان کے پورے جسم پر کپکپی طاری تھی مگر ہونٹوں
پرمسکراہٹ تھی۔ انھوں نے خوابیدہ انداز میں بتایا کہ انھوںنے ہال میں ایک عورت دیکھی
جس نے ایک بچے کو اٹھایا ہوا تھا اور وہ اسے چاٹ رہی تھی۔ تاہم اس بات کی وضاحت
ضروری ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے مسٹر پیڈرو پر غائب الدماغی کی کیفیت طاری ہو جاتی
ہے اور وہ اکثر اوپرا ہائوس سے کسی کو بتائےبغیر غائب ہو جاتے ہیں۔ کئی بار ایسا
ہوا ہے کہ وہ رات بھر ہال کی اگلی سیٹ پر بیٹھ کر سٹیج پر بنے مجسموں اور تصویر کو
دیکھتے پائے گئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مسٹر پیڈرو کی جیب سے ایک عورت اور
ایک لڑکے کی تصویر بھی ملی ہے ۔ تصویر میں موجود عورت صحت مند اور عمدہ لباس پہنے
ہوئے ہے مگر اس کا چہرہ ناقابل شناخت ہے۔ غالب گمان ہے کہ یہ تصویر مادام انجلینا
کی ہے جو چالیس برس قبل بے حد مشہور گائیکہ تھیں اور تصویر میں نظر آنے والا
لڑکاخود مسٹر پیڈرو ہیں۔
اس
واقعے کو بیس روز گزر چکے ہیں۔ اوپراہائوس کے قریب رہنے والے ایک شخص نے ہمارے
نمائندے کو یہ بھی بتایا ہے کہ جس صبح مسٹر پیڈرو کو ہسپتا ل لے جایا گیا، اس رات
اس نے ایک حاملہ عورت کو اوپرا ہائوس کے پچھلی طرف جاتے دیکھا ہے۔ ابھی تک مسٹر پیڈرو
کی حالت بہتر نہیں ہوئی ہے اور یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ وہ کب تک اس کیفیت سے باہر
نکل پائیں گے۔ ان کے اور پڑوسی کے بیان میں مماثلت ہے مگر اس پراسرار عورت کا کوئی
سراغ ابھی تک نہیں مل سکا ہے۔ ہمارے اس کالم ’’سچ: سات سر والا درندہ‘‘ پر اپنی
رائے کا اظہار ضرور کیجیے اور اگر اس عورت کے بارے میں معلومات ہوں تو ہمیں فوراََ
مطلع کیجیے۔ آپ کا نام صیغۂ راز میں رکھا جائے گا۔
مصنف کا تعارف:
میوتو حاتوم
Milton Hatoum
1952-
_____________
میوتو حاتوم کے والدین لبنان سے برازیل منتقل ہوئے۔ ان
کے والد لبنانی جب کہ والدہ برازیلی تھیں۔ وہ برازیلی صوبے امیزونس کے دارالحکومت
مانااُز میں پیدا ہوئے۔اس خطے نے برازیل کے دیگر حصوں کی نسبت دیر سے ترقی کی اور
ربڑ کی پیداوار یہاں کی سب سے بڑی ذریعہ آمدنی تھی۔ ان کا پہلا ناول 1989میں شائع
ہوا جس پر انھیں Jabuti Prizeسے
نوازا گیا اور انھیں ابھرتے ہوئے برازیلی ادیب کا خطاب ملا۔ ان کے اب تک پانچ ناول
جب کہ تین افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ انھوں نے اپنے ناولوں میں لبنانی پناہ
گزینوں کی برازیلی معاشرے میں انضمام اور اس سے جڑے مسائل کو اس خوبی سے اپنی تخلیقات
میں سمویا ہے کہ آج انھیں عصری منظر نامے میں اونچا مقام حاصل ہے۔وہ مانااُز کی
جامعہ میں فرانسیسی زبان کے استاد رہ چکے ہیں۔ آج کل وہ سائو پائولو یونی ورسٹی میں
برازیلی ادب کے استاد ہیں۔ وہ Yaleیونی
ورسٹی اور کیلی فورنیایونی ورسٹی میں لیکچر دینے جاتے رہتے ہیں۔

Comments
Post a Comment