افسانہ نمبر 709 : بالائی منزل کا مہمان || تحریر : رے براڈ بری (امریکہ) || مترجم: جاوید بسام (کراچی)

 

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)

 افسانہ نمبر 709 : بالائی منزل کا مہمان

تحریر : رے براڈ بری  (امریکہ)

مترجم: جاوید بسام (کراچی)

 


اس کو یاد تھا کہ دادی کتنی احتیاط اور مہارت سے مرغی کا پیٹ چاک کرتی اور اپنا موٹا گداز ہاتھ اندر ڈال کر سب کچھ باہر نکالتی تھیں۔گوشت کی بُو دیتے، چمکتے، گیلی آنتوں کے حلقے، پٹھوں والا دل، اور معدہ جس میں بیجوں کا ذخیرہ ہوتا تھا۔ وہ بڑی صفائی اور خوبصورتی سے اپنا کام کرتیں، کچھ برتنوں میں اور کچھ کاغذ میں ڈال دیا جاتا جو بعد میں کتے کا رزق بنتا۔ پھر وہ عمل ہوتا جو ایک قسم کی ٹیکسیڈرمی معلوم ہوتا تھا، مرغی کو پانی میں بھیگی ہوئی، مصالحہ لگی بریڈ سے بھرنا اور چمکتے تیز دھاگے اور سوئی سے جراحی کرنا، ایک کے بعد ایک تنگ، مضبوط ٹانکا اور سلائی۔ یہ ڈگلس کی گیارہ سالہ زندگی کے سب سے سنسنی خیز نظاروں میں سے ایک تھا۔ اس نے دادی کے جادوئی باورچی خانے کی میز کی کھڑکھڑاتی درازوں میں مجموعی طور پر بارہ چھریاں گنی تھیں، جن میں سے ایک، یہ رسم ادا کرنے کے لیے دادی استعمال کرتی تھیں۔ وہ چڑیل جیسے سفید بالوں والی بوڑھی، مگر نرم اور مہربان چہرے والی خاتون تھیں۔ ڈگلس کو میز کے کنارے پر اپنی چھائیوں دار ناک کے ساتھ کھڑے ہوکر یہ کارروائی دیکھنے کی اجازت تھی، لیکن اسے خاموش رہنا پڑتا تھا، کیوں کہ اس کی لڑکوں والی بیکار بک بک سے جادو میں خلل پر سکتا تھا۔ یہ عجیب منظر ہوتا جب دادی چاندی کے شیکروں سے مرغی پر مسالے چھڑکتیں۔ جس کے بارے میں ڈگلس کو شبہ تھا کہ وہ ممی کی دھول اور ہندوستانی ہڈیوں کا پاؤڈر ہوتے ہیں، جب کہ اس دوران ان کے پوپلے منہ سے پراسرار کلمات جاری رہتے تھے۔

 

دادی! کیا میں اندر سے مرغیوں جیسا ہوں؟“ آخر ایک دن ڈگلس نے خاموشی توڑتے ہوئے پوچھا۔

ہاں۔“ دادی نے کہا۔ ”کچھ زیادہ اور بڑے اعضاء، لیکن ایسے ہی…“

اس سے زیادہ۔“ ڈگلس نے فخر سے کہا۔

’’ہاں، بہت زیادہ۔‘‘ دادی نے کہا۔

اور دادا کے پاس مجھ سے بھی زیادہ؟ ان کا پیٹ دیکھیں۔ وہ اس پر اپنی کہنیوں کو آرام دے سکتے ہیں۔

دادی ہنسی اور سر ہلایا۔

اور لوسی ولیمز جو گلی کے کونے میں رہتی ہے؟ .…“ ڈگلس نے پوچھا۔

بس چپ رہو بچے!“ دادی چلائی۔

لیکن وہ …“

تمہیں اُس کے بارے میں جاننے کی ضرورت نہیں، وہ الگ معاملہ ہے۔“دادی بولیں۔

وہ مختلف کیوں ہے؟“ڈگلس نے جرح کی۔

کسی دن بھنبھیری (ڈریگن فلائی) آئے گی اور اپنی سوئی سے تمہارا منہ سی دے گی۔‘‘ دادی نے سخت لہجے میں کہا۔

ڈگلس نے توقف کیا، پھر پوچھا:”دادی آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں اندر سے ایسا ہوں؟

یہاں سے دفع جاؤ !“دادی غصے سے چلائیں۔

اسی دوران بیرونی دروازے کی گھنٹی بجی۔

ڈگلس باہر کی طرف بھاگا۔ اسے دروازے کے شیشے سے ایک تنکوں والی ٹوپی نظر آئی۔ گھنٹی ابھی تک بج رہی تھی۔ اس نے دروازہ کھولا۔

 

صبح بخیر میرے عزیز! کیا میزبان گھر میں موجود ہیں؟“ سرد بھوری آنکھوں، لمبے، ہموار اور اخروٹی رنگ کے چہرے والے آدمی نے ڈگلس کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ دراز قد آدمی تھا۔ ایک ہاتھ میں سوٹ کیس اور دوسرے میں بریف کیس لیے ہوئے، بازو کے نیچے چھتری دبی ہوئی تھی، ہاتھوں پر موٹے بھورے دستانے اور سر پر ایک خوفناک قسم کی تنکوں کی ٹوپی تھی۔

 

ڈگلس پیچھے ہٹ کر بولا۔ ”وہ مصروف ہیں۔

میں قیام کے لیے وہ بالائی کمرہ لینا چاہتا ہوں، جس کا اشتہار دیا گیا ہے۔

ہمارے پاس دس اقامتی پہلے ہی موجود ہیں، سب کمرے بھرے ہوئے ہیں، آپ جا سکتے ہیں۔“ ڈگلس نے کہا۔

ڈگلس!“ دادی اچانک پیچھے سے نمودار ہوئیں۔ ”ہیلو! بچے کی بات پر توجہ نہ دیں۔“ وہ اجنبی سے مخاطب ہوکر بولیں۔

 

وہ شخص بنا مسکرائے اندر داخل ہوا۔ ڈگلس نے دادی اور اجنبی کو سیڑھیوں پر نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا، پھر دادی کو کمرے کی سہولتوں کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے سنا۔ جلد ہی وہ نیچے آئیں اور الماری میں سے چادر تولیوں کا ایک ڈھیر نکال کر ڈگلس کو اوپر بھیجا۔

 

ڈگلس زینہ چڑھ کر دہلیز پر رک گیا۔ اس نے کمرے میں عجیب سی تبدیلی محسوس کی، شاید اس کی وجہ اجنبی کی وہاں آمد تھی۔ خشک اور ڈراؤنی تنکوں کی ٹوپی بستر پر پڑی تھی اور چھتری، دیوار کے ساتھ سیاہ پروں والی مردہ چمگادڑ کی طرح کھڑی تھی۔ ڈگلس نے چھتری کو دیکھ کر پلکیں جھپکائی۔ اجنبی کمرے کے درمیان کھڑا تھا۔ وہ بہت لمبا تھا۔ ڈگلس نے چادریں بستر پر رکھ دیں اور بولا۔”سنیں! ہم دوپہر کا کھانا جلدی کھا لیتے ہیں، اگر آپ دیر سے آئے تو سوپ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ دادی دوبارہ گرم نہیں کرتیں۔ یہ ان کا اصول اور روز کا معمول ہے۔

دراز قد آدمی نے تانبے کے دس نئے سکے گن کر ڈگلس کی قمیض کی جیب میں ڈال دیے۔”چلو دوستی کرلیں۔“ اس نے اداسی سے کہا۔

 

یہ عجیب بات تھی کہ اس کے پاس صرف پینیز تھے، کوئی سلور، کوئی ڈائم، کوئی کوارٹر نہیں۔ بس نئے تانبے کے پینیز۔ ڈگلس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور بولا۔ ”میں یہ رقم اپنے گللگ میں ڈال دوں گا۔ میرے پاس چھ ڈالر اور پچاس سینٹ پہلے ہی جمع ہیں، جو میں اپنے اگست کے سفر کے لیے بچا رہا ہوں۔

 

میں ہاتھ منہ دھونا چاہتا ہوں۔“ دراز قد آدمی نے کہا۔

ڈگلس نے غسل خانے کی طرف اشارہ کیا۔

نصف شب کو ڈگلس طوفان برگ و باراں کی آواز سے بیدار ہوگیا، سرد طوفانی ہوا گھر کو جھنجھوڑ رہی تھی اور بارش کھڑکیوں سے ٹکرا رہی تھی۔ پھر کھڑکی کے باہر خوفناک گرج کے ساتھ بجلی چمکی۔ اسے وہی خوف محسوس ہوا جو اجنبی کے کمرے میں ہوا تھا۔ وہ تصور میں اس کمرے میں جا پہنچا جو اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ بلکہ بہت بدل گیا تھا۔ جیسے اجنبی نے بجلی کی کوند کی طرح اپنے وجود کی روشنی کمرے میں پھیلا دی ہو۔ اجنبی کے آگے بڑھنے پر ڈگلس پیچھے ہٹ گیا۔ دروازہ اس کے پیچھے بند ہوگیا تھا۔

 

دوپہر کو نیا مہمان کھانے کے لیے آیا۔ وہ اپنے ساتھ لکڑی کا ایک کانٹا اور چمچہ لایا تھا۔ کانٹا آلوؤں کے ساتھ اوپر جاتا اور خالی واپس آتا۔ اس آدمی کا نام مسٹر کوبرمین تھا۔

مسز سپولڈنگ۔“ اس نے دھیرے سے کہا۔ ”یہ میری کٹلری ہے، براہ کرم کھانے کے وقت اسے رکھا کریں۔ میں آج دوپہر کا کھانا کھا رہا ہوں، لیکن کل سے صرف ناشتہ اور رات کا کھانا لوں گا۔

دادی الجھن میں تھیں کہ نئے مکین کو متاثر کرنے کے لیے کیا پیش کریں؟ گرما گرم سوپ، لوبیا یا میشڈ آلو، جب کہ ڈگلس اپنی پلیٹ پر چاندی کا کانٹا بار بار مار رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا تھا کہ یہ مسٹر کوبرمین کو ناگوار لگ رہا ہے۔

میں ایک جادو جانتا ہوں۔“ آخر جب دادی کسی کام سے باہر گئیں تو ڈگلس نے کہا۔ ”پلیز توجہ!“ اُس نے کانٹے کی نوک کو ناخن سے چھیڑا۔ پھر وہ میز کے مختلف حصّوں کی طرف اشارہ کرنے لگا، جیسے کوئی جادوگر ہو۔ جدھر وہ اشارہ کرتا، وہاں سے کانٹے کی جھنکار ابھرتی۔ بظاہر یہ ایک آسان سی ترکیب تھی۔ وہ کانٹے کے دستے کو چپکے سے میز پر مارتا تھا اور لکڑی کی سطح وہ آواز پھیلا دیتی تھی۔ یہ جادو لگتا تھا۔ ”وہاں، وہاں اور وہاں۔“ ڈگلس نے خوشی سے دوبارہ انگلی ہلاتے ہوئے کہا۔ اس نے مسٹر کوبرمین کے سوپ کی طرف اشارہ کیا تو وہاں سے آواز آئی۔

مسٹر کوبرمین کا اخروٹی رنگ کا چہرہ سخت اور خوفناک ہوگیا۔ انہوں نے غصے سے سوپ کا پیالہ ایک طرف سرکایا، ان کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ آخر وہ کرسی پر پیچھے کی طرف جھک گئے۔

دادی نمودار ہوئیں۔”مسٹر کوبرمین! کیا بات ہے؟“ انہوں نے پوچھا۔

میں یہ سوپ نہیں پی سکتا۔

کیوں؟

کیونکہ میرا پیٹ بھر چکا ہے، شکریہ۔“ وہ بولے اور غصے سے گھورتے باہر چلے گئے۔

تم نے ابھی کیا حرکت کی؟“ دادی نے سختی سے پوچھا۔

کچھ نہیں، وہ لکڑی کے چمچوں سے کیوں کھاتے ہیں؟

تم کو اس سے کیا غرض۔ ویسے تم اسکول کب جا رہے ہیں؟

سات ہفتے باقی ہیں۔

اوہ میرے خدا!“ دادی کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسٹر کوبرمین رات کو کام پر جاتے اور صبح آٹھ بجے پراسرار انداز میں گھر  لوٹتے، تھوڑا سا ناشتہ کرتے، پھر سارا دن گرمیوں کی خواب آلود، دھوپ بھری دوپہروں کو اپنے کمرے میں خاموشی سے سوتے رہتے۔ یہاں تک کہ شام کو جب تمام اقامتی ایک ساتھ رات کا کھانا کھانے بیٹھتے تو وہ بیدار ہوتے تھے۔

ان کی دن میں سونے کی عادت سے ڈگلس کے لیے لازم تھا کہ وہ شور نہ کرے۔ یہ اس کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ چنانچہ جب دادی کہیں جاتیں تو وہ تیزی سے سیڑھیوں پر دھپ دھپ کرتا، ڈھول پیٹتا، گالف کی گیند فرش پر مارتا، مسٹر کوبرمین کے دروازے کے باہر تین منٹ تک چیختا یا سات بار ٹوائلٹ لگاتار فلش کرتا تھا، لیکن مسٹر کوبرمین پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ ان کا کمرہ خاموشی اور اندھیرے میں ڈوبا رہتا۔ انہوں نے ایک بار بھی اعتراض نہیں کیا۔ وہاں سے کوئی آواز نہیں آتی تھی۔ وہ ایک بار سوگئے تو بس سوگئے۔ یہ بات بہت عجیب تھی۔

ڈگلس نے اپنے اندر نفرت کی آگ جلتی محسوس کی۔ ایسی آگ جو دھیمی، روشن اور ہمیشہ سلگتی رہتی تھی۔ اب وہ کمرہ "کوبرمین لینڈ" بن چکا تھا۔ جب وہاں مس سڈلو رہتی تھیں تو وہ پھولوں جیسا روشن اور کشادہ لگتا تھا، مگر اب خالی، سپاٹ اور سرد محسوس ہوتا تھا۔

چوتھی صبح ڈگلس اوپر چلا گیا۔ سیڑھیوں کے درمیانی حصے میں ایک بڑا سا کھڑکی نما روشن دان تھا، جس کے کنارے نارنجی، جامنی، نیلے، سرخ اور گہرے ارغوانی رنگ کے چھ انچ چوڑے شیشوں سے سجے تھے۔ جادوئی صبحوں میں سورج کی کرنیں اس کھڑکی سے چھن کر زینے پر پڑتیں اور ریلنگ کے ساتھ پھسلتی تو ڈگلس سحرزدہ سا کھڑا دنیا کو ان رنگین شیشوں سے تکتا رہتا۔

 

اب ہر چیز نیلی تھی، نیلا آسمان، نیلے لوگ، نیلی ٹرامیں، اور نیلے رنگ کے دوڑتے ہوئے کتے۔

 

اس نے شیشہ بدلا۔ اب عنبر کا جہان آباد تھا۔ دو زردی مائل عورتیں نہایت سبک خرامی سے گزریں، جیسے فومانچو کی بیٹیاں ہوں۔ ڈگلس ہنس پڑا۔ یہاں تک کہ اس شیشے سے سورج بھی زیادہ سنہری نظر آرہا تھا۔

اب آٹھ بج گئے تھے۔ فٹ پاتھ پر مسٹر کوبرمین آتے نظر آئے۔ وہ کام سے واپس آرہے تھے، ان کی چھتری کہنی کے نیچے دبی ہوئی اور تنکوں کی ٹوپی سر پر جمی تھی۔

ڈگلس نے پھر شیشہ بدلا۔ مسٹر کوبرمین ایک سرخ دنیا میں سے گزر رہے تھے۔ سرخ درخت، سرخ پھول، اور وہ خود بھی … سرخ!

مگر کچھ تھا۔ مسٹر کوبرمین میں کوئی عجیب سی بات تھی۔ ڈگلس نے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا۔

 

یہ سرخ شیشہ کوبرمین کے ساتھ کچھ کر رہا تھا۔ ان کا چہرہ، ان کے کپڑے، ان کے ہاتھ … سب جیسے دھندلا رہے تھے، کپڑے تو گویا تحلیل ہوگئے تھے۔ ایک لمحے کے لیے، ایک ہولناک لمحے کے لیے، ڈگلس کو یقین سا ہوا کہ وہ مسٹر کوبرمین کے اندر دیکھ سکتا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا، وہ اس قدر دہشت ناک تھا کہ وہ گھبرا کر سرخ شیشے سے پیچھے ہٹ گیا۔ پھر اس نے پلکیں جھپکیں اور آنکھیں رگڑیں۔

اسی لمحے، مسٹر کوبرمین نے اوپر ڈگلس کو دیکھا اور غصے سے اپنی چھڑی کو ایسے لہرایا جیسے مارنے والے ہوں۔ پھر وہ سرخ لان کو عبور کرکے بیرونی دروازے کی طرف بھاگے۔

لڑکے! یہ کیا حرکت ہے؟“ وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے چلائے۔

میں بس … دیکھ رہا تھا،" ڈگلس نے بمشکل کہا۔

"بس یہی؟" مسٹر کوبرمین گرجے۔

جی ہاں جناب، میں سب شیشوں سے دیکھتا ہوں۔ ہر قسم کی دنیائیں نیلی، پیلی، سرخ الگ الگ۔

ہر قسم کی دنیائیں، بس؟

مسٹر کوبرمین نے شیشوں پر نظر ڈالی، ان کا چہرہ زرد پڑگیا۔ پھر خود کو سنبھالا، چہرہ رومال سے صاف کیا اور زبردستی ہنسنے کی اداکاری کی۔

ہاں، ہاں۔ ہر قسم کی دنیائیں۔ سب الگ الگ۔“ وہ اپنے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھے۔ ”جاؤ کھیلو!“ انہوں نے کہا۔

دروازہ بند ہوگیا، راہداری خالی ہوگئی تھی۔ مسٹر کوبرمین چلے گئے تھے۔

ڈگلس نے کندھے اچکائے اور نئے شیشے سے جھانکا۔

اوہ، اب سب کچھ جامنی ہے۔

تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد جب وہ گھر کے پیچھے ریت دانی (سینڈ باکس) میں کھیل رہا تھا۔ اسے اچانک شیشے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔

وہ اچھل کر کھڑا ہو گیا۔

ایک لمحے بعد دادی عقبی برآمدے پر نمودار ہوئیں، ان کے ہاتھ میں پرانا چمڑے کا کوڑا کانپ رہا تھا۔

ڈگلس! میں نے تمہیں بار بار کہا ہے کہ گیند گھر کی دیوار پر نہ مارا کرو۔ آہ، میں تو اب رو ہی پڑوں گی۔

میں تو یہاں بیٹھا ہوں۔“ وہ احتجاجاً بولا۔

شرارتی لڑکے! چلو دیکھو تم نے کیا کیا۔

اگلے احاطے میں کھڑکی کے رنگین شیشے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں قوس قزح کی مانند پھیلے ہوئے تھے اور اس کی باسکٹ بال ان پر پڑی تھی۔

اس سے پہلے کہ وہ اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت دیتا، دادی نے ایک درجن کوڑے اس کی پشت پر برسا دیے۔ جہاں وہ چیختا ہوا سہلاتا، کوڑا وہیں دوبارہ پڑتا۔

 

کچھ دیر بعد وہ شتر مرغ کی طرح ریت کے اندر اپنے درد کو چھپائے بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کھڑکی پر گیند کس نے پھینکی تھی؟ اس آدمی نے… جس کے سر پر تنکوں والی ٹوپی، ہاتھ میں چھڑی تھی اور جس کا کمرہ سرد، خاموش اور بے رنگ تھا۔

ہاں، ہاں، ہاں …!“وہ سسکیاں لیتے ہوئے بڑبڑایا۔ ”بس ذرا … بس ذرا انتظار …“

 

کچھ دیر بعد اس نے جھاڑو دینے کی آواز سنی۔ دادی شیشے سمیٹ رہی تھیں۔ پھر انہیں کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا۔ نیلے، گلابی، پیلے شیشے کے ٹکڑے شہابیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ جب وہ چلی گئی تو ڈگلس کراہتے ہوئے گھسیٹ کر کچرے کی طرف گیا اور شیشے کے تین ٹکڑے نکال لیے۔ مسٹر کوبرمین کو یہ رنگین شیشے ناپسند تھے۔ ڈگلس نے انہیں انگلیوں میں جھنجھنایا۔ وہ محفوظ رکھنے کے قابل تھے۔

دادا ہر شام اپنے اخبار کے دفتر سے، دوسرے اقامتیوں سے کچھ دیر پہلے پانچ بجے آتے تھے۔ جوں ہی وہ آتے ان کے قدموں کی بھاری آوازیں اور مہاگنی چھڑی کی ٹھک ٹھک سنائی دیتی۔ ڈگلس دوڑ کر ان سے لپٹ جاتا اور ان کی گود میں بیٹھ کر شام کا اخبار پڑھنے لگتا۔

ہیلو دادا !“

ہیلو بیٹا!“

دادی نے آج پھر مرغی کاٹی ہے۔ میرے لیے وہ سب دیکھنا بہت دلچسپ تھا۔“ ڈگلس نے کہا۔

دادا نے اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔ ”ایک ہفتے میں دوسری بار مرغی۔ تمہاری دادی چکن لیڈی ہے۔ تمہیں اس کو  دیکھنا اچھا لگتا ہے؟ سرد خون والے شرارتی لڑکے۔

مجھے صرف تجسس ہے۔

ہاں، ہاں۔“ دادا نے بھنویں سکیڑیں۔

یاد ہے وہ دن جب ریلوے اسٹیشن پر ایک لڑکی ماری گئی تھی؟ تم سیدھے وہاں پہنچے، سب کچھ دیکھا، خون تک۔ تم عجیب لڑکے ہو۔ ایسے ہی رہنا۔ زندگی میں کبھی خوف نہ کھانا۔ مجھے لگتا ہے کہ تم نے یہ عادت اپنے والد سے حاصل کی ہے۔ وہ ایک سپاہی تھے اور پچھلے سال یہاں آنے سے پہلے تم ان کے بہت قریب تھے۔“ یہ کہہ کر دادا اخبار میں گم ہوگئے۔

کچھ دیر خاموشی رہی۔

دادا !“پھر ڈگلس بولا۔

ہاں۔

اگر کوئی انسان دل، پھیپھڑوں اور معدے کے بغیر زندہ پھرے؟

یہ ایک معجزہ ہوگا۔“ دادا نے تیزی سے کہا۔

معجزہ نہیں... میرا مطلب ہے، اگر وہ اندر سے بالکل مختلف ہو۔ میری طرح نہ ہو۔

پھر وہ انسان نہیں ہوگا۔

دادا، کیا آپ کے پاس دل اور پھیپھڑے ہیں؟

دادا نے قہقہہ لگایا:”سچ پوچھو تو مجھے نہیں معلوم۔ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے کبھی ایکسرے نہیں کروایا، میں کبھی ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا۔ شاید وہاں صرف آلو ہوں، وہاں کیا ہے، میں نہیں جانتا۔

کیا میرا معدہ ہے؟“ڈگلس نے پوچھا۔

بالکل ہے، میں جانتی ہوں۔“ دادی نے کمرے کے دروازے پر نمودار ہوکر کہا۔” میں اسے کھانا کھلاتی ہوں اور تمہارے پھیپھڑے بھی ہیں۔ تم اتنی زور سے چیختے ہو کہ مردہ بھی جاگ جائے۔ تمہارے ہاتھ گندے ہیں، فوراً جا کر دھو لو۔ کھانا تیار ہے۔ چلو دادا، چلو ڈگلس!“

دادا اس سے کچھ سوال کرنا چاہتے تھے، مگر تیزی سے اترنے والے اقامتیوں کے شور میں موقع نہیں تھا۔ اگر رات کے کھانے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر ہو جاتی تو دادی اور آلو بیک وقت ناراض ہو جاتے تھے۔

تمام اقامتی میز پر ہنس بول رہے تھے۔ بس مسٹر کوبرمین خاموش تھے اور ان کے چہرے سے اداسی کا اظہار ہو رہا تھا۔ آخر دادا نے گلا صاف کیا۔ انہوں نے چند منٹ سیاست پر تبادلہ خیال کیا، پھر حال ہی میں شہر میں ہونے والی پراسرار اموات کی طرف متوجہ ہوئے۔

یہ ایک بوڑھے اخبار نویس کے کان کھڑے کرنے کے لیے کافی ہے۔“ انہوں نے حاضرین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”اس دفعہ ایک نوجوان عورت مس لارسن جو گھاٹی کے پار رہتی تھی۔ تین دن پہلے عجیب ٹیٹو میں ڈھکی اور چہرے پر ایسے دہشتناک تاثرات کے ساتھ پائی گئی کہ دانتے بھی کانپ اٹھا ہوگا اور دوسری وہ نوجوان لڑکی، کیا نام تھا؟ وائٹلی؟ وہ غائب ہوگئی اور ابھی تک واپس نہیں آئی۔

ہاں، اکثر ایسے واقعات پیش آرہے ہیں۔“ موٹر مکینک مسٹر برٹز نے لقمہ چباتے ہوئے کہا۔ ”آپ نے کبھی لاپتہ افراد کی ایجنسی میں فہرست دیکھی ہے؟ وہ بہت لمبی ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا؟

کیا کسی کو مزید چٹنی چاہیے؟“ دادی نے مرغی کے ٹکڑے کرتے ہوئے پوچھا۔

ان کی گفتگو جاری رہی۔ موٹر مکینک مسٹر برٹز نے کہا۔”ہاں یاد آیا ایک ہفتے قبل ماریون بارسو مین دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا تھا، کیا اس کا بھی ان پراسرار اموات سے کوئی تعلق تھا؟

کیا تم لوگ پاگل ہوگئے ہو؟ رات کے کھانے پر ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو؟“ دادی چیخی۔

آپ نہیں جانتیں؟ غالباً ہمارے شہر میں کوئی ویمپائر آگیا ہے۔“مسٹر برٹز نے کہا۔

مسٹر کوبرمین نے کھانے سے ہاتھ روک لیا۔

سنہ 1927 میں ویمپائر؟ رہنے دو۔“ دادی نے کہا

جی ویمپائر، وہ انہیں چاندی کی گولیوں سے مارتے ہیں یا چاندی کی بنی ہوئی کوئی چیز۔ ویمپائر چاندی سے نفرت کرتے ہیں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا۔“ مسٹر برٹز نے کہا۔

ڈگلس نے مسٹر کوبرمین کی طرف دیکھا جو لکڑی کے چاقو اور کانٹے سے کھانا کھاتے تھے اور اپنی جیب میں صرف نئے تانبے کے سکے رکھتے تھے۔

دادا نے کہا۔”کسی چیز کو خود نام دینا غلط ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہوب گوبلن کیا ہیں، ویمپائر یا ٹرول کیا ہیں؟ یہ کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔ آپ ان کی درجہ بندی نہیں کر سکتے اور ان پر لیبل لگا کر نہیں کہہ سکتے کہ وہ اِس طرح یا اُس طرح کام کرتے ہیں۔ یہ احمقانہ بات ہے۔ بس کچھ لوگ ہیں جو ایسا کام کرتے ہیں۔

معاف کیجئے گا۔“مسٹر کوبرمین میز سے اٹھے اور کام کے لیے روانہ ہوگئے۔

رات بیتی رہی ستارے، چاند، ہوا، گھڑی کی ٹک ٹک، طلوع فجر تک گھنٹے بجتے رہے، پھر سورج طلوع ہوا اور نئی صبح نمودار ہوئی، ایک نیا دن، مسٹر کوبرمین اپنے رات کے کام سے فارغ ہو کر فٹ پاتھ پر آتے نظر آئے۔ ڈگلس ایک چھوٹی چابی بھری مشین کی طرح چوکس کھڑا غور سے اپنی خوردبینی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوپہر کو دادی کریانے کی دکان پر گئی ہوئی تھیں۔

ڈگلس نے ہمیشہ کی طرح مسٹر کوبرمین کے دروازے پر تین منٹ تک چیخ وپکار کی۔ مگر ہمیشہ کی طرح کوئی جواب نہیں آیا۔ گھر پر چھائی خاموشی خوفناک ہوتی جارہی تھی۔

آخر وہ سیڑھیوں سے نیچے بھاگا اور کمرے کی چابی، ایک چاندی کا کانٹا اور رنگین شیشے کے تین ٹکڑے جو اس نے حفاظت سے رکھے ہوئے تھے، لیکر واپس آیا۔ اس نے چابی تالے میں ڈالی اور آہستہ سے دروازہ کھولا۔ کمرے میں مدھم روشنی ہورہی تھی، پردے کھینچے ہوئے تھے۔ مسٹر کوبرمین شب خوابی کے لباس میں بستر پر بے حرکت لیٹے تھے اور آہستہ سانس لے رہے تھے۔ ان کا چہرہ بے جان تھا۔

ہیلو مسٹر کوبرمین!“ ڈگلس نے آواز لگائی۔

بے رنگ دیواروں کے درمیان ان کی سانسوں کی گونج سنائی دے رہی تھیں۔

ہیلو مسٹر کوبرمین!“ وہ پھر چلایا اور گولف کی گیند اچھالتے ہوئے آگے بڑھا۔ مگر کوئی جواب نہیں آیا۔

مسٹر کوبرمین!“ ڈگلس نے چاندی کا کانٹا ان کے چہرے پر ٹھونس دیا۔ وہ ہلکے سے کراہے اور نیند میں کچھ بڑبڑانے لگے۔

اچھا ردعمل۔“وہ دھیرے سے بولا۔

پھر ڈگلس نے جیب سے نیلے شیشے کا ایک ٹکڑا نکال کر اپنی آنکھ سے لگایا، فوراً ہی اس نے خود کو ایک نیلے کمرے میں پایا، ایک نیلی دنیا میں، اس دنیا سے مختلف جس میں وہ رہتا تھا۔ سرخ دنیا سے مختلف۔ نیلا فرنیچر، نیلا بستر، نیلی چھت اور دیواریں، نیلے رنگ کی تپائی پر لکڑی کے نیلے برتن اور مسٹر کوبرمین کا نیلا اداس چہرہ، ہاتھ اور نیلا ابھرتا ڈوبتا سینہ، اور مزید یہ... کہ مسٹر کوبرمین کی کشادہ آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور وہ اندھیرے سے اسے ٹکٹکی باندھے گھور رہے تھے۔

ڈگلس گھبرا کر پیچھے ہٹا اور شیشے کو آنکھوں سے دور کیا۔ مسٹر کوبرمین کی آنکھیں بند ہوگئیں۔

جوں ہی وہ نیلا شیشہ لگاتا، آنکھیں کھل جاتیں۔ نیلا شیشہ دور ہوتا، آنکھیں بند ہو جاتیں۔ عجیب۔۔۔۔ ڈگلس نے جوش سے کانپتے ہوئے تجربہ جاری رکھا۔ جب نیلا شیشہ اس کی آنکھ سے لگتا تو مسٹر کوبرمین کی بھوکی اور لالچی آنکھیں بند پلکوں سے اسے گھورتی اور نیلے شیشے کے بغیر وہ سختی سے بند نظر آتیں۔ پھر مسٹر کوبرمین کا لباس تحلیل ہونے لگا۔ یہ نیلے شیشے کا اثر تھا یا کپڑے خود ہی ان کے اوپر سے ہٹ رہے تھے۔ ”مسٹر کوبرمین !“ ڈگلس چلایا۔

اس نے براہ راست ان کے پیٹ میں دیکھا۔

مسٹر کوبرمین کے پیٹ کے اعضاء جیومیٹری کی اشکال جیسے تھے اور عجیب و غریب وضع کی دوسری چیزیں بھی دکھائی دے رہی تھیں۔

ڈگلس پانچ منٹ تک حیرت سے وہاں کھڑا نیلی، سرخ اور پیلی دنیاؤں کے بارے میں سوچتا رہا۔ ایک کے بعد ایک، رنگین شیشہ، ہر قسم کی دنیا، مسٹر کوبرمین نے خود کہا تھا۔ اسی لیے رنگین کھڑکی ٹوٹ گئی تھی۔

مسٹر کوبرمین، جاگ جائیں!“ وہ پھر چلایا۔

مگر ہلکی سی جنبش بھی نہیں ہوئی۔

مسٹر کوبرمین ! آپ رات کو کیا کام کرتے ہیں؟“ وہ پھر چلایا۔

تیز ہوا کے جھونکے نے نیلی کھڑکی کے پردے کو ہلا دیا۔

مسٹر کوبر مین! کہاں؟ سرخ دنیا میں، سبز دنیا میں یا پیلی دنیا میں؟

 

نیلے شیشے کی خاموشی ہر چیز پر راج کررہی تھی۔

 

چند لمحے انتظار کریں۔“ ڈگلس نے کہا اور نیچے باورچی خانے میں چلا گیا، بڑی زنگ آلود دراز کھولی اور سب سے تیز اور لمبی چھری نکالی۔ پھر خاموشی سے سیڑھیاں چڑھ کر مسٹر کوبرمین کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر جا کر بند کر لیا۔ کچھ دیر بعد جب ڈگلس میز پر کچھ رکھنے کے لیے باورچی خانے میں داخل ہوا تو دادی ایک پین میں انگلی سے پائی پر پپری جمانے میں مصروف تھیں۔ وہ چلایا۔”دادی! یہ کیا ہے؟

انہوں نے عینک کے شیشوں سے مختصر نظر ڈالی اور بولیں۔”میں نہیں جانتی۔

وہ ایک مربع ڈبے کی طرح تھا، لچکدار، روشن اور نارنجی۔ اس کے ساتھ چار نیلی ٹیوبیں جڑی ہوئی تھیں۔ اس سے عجیب سی بو آرہی تھی۔

دادی، کیا آپ نے کبھی ایسی چیز دیکھی ہے؟

نہیں۔

میرا یہی خیال تھا۔“وہ بولا۔

ڈگلس اسے میز پر چھوڑ کر باورچی خانے سے نکل گیا۔ پانچ منٹ بعد وہ کچھ اور لے کر آیا۔

اور یہ؟“ اس نے ایک روشن گلابی زنجیر دکھائی جس کے آخر میں جامنی رنگ کی مثلث تھی۔

مجھے پریشان مت کرو۔ یہ ایک زنجیر ہے۔“ دادی نے کہا۔

 

اگلی بار اس کے دونوں ہاتھ بھرے ہوئے تھے۔ ایک دائرہ نما، ایک مربع، ایک مثلث، ایک اہرام، ایک مستطیل اور… دیگر اشکال۔ وہ تمام لچکدار اور نرم چپچپے مادے سے بنے ہوئے لگتے تھے۔

صرف یہ ہی نہیں ہیں اور بھی بہت کچھ ہے۔“ ڈگلس نے انہیں میز پر رکھتے ہوئے کہا۔

دادی نے مصروف لہجے میں کہا: ”ہاں، ہاں۔

دادی آپ نے غلط کہا تھا۔

کیا؟

کہ سب لوگ اندر سے ایک جیسے ہیں۔

یہاں سے جاؤ!“

میرا گللک کہاں ہے؟

آتش دان پر، جہاں تم نے رکھا تھا۔

بہت بہت شکریہ۔

وہ گللک لینے کے لیے نشست گاہ میں چلا گیا۔

پانچ بجے دادا دفتر سے آئے۔

دادا، چلیں اوپر چلتے ہیں۔“وہ بولا۔

کیوں؟

میں آپ کو کچھ دکھانا چاہتا ہوں، وہ اگرچہ خوشگوار نہیں ہے، لیکن دلچسپ ضرور ہے۔

دادا نے قہقہہ لگایا اور پوتے کے پیچھے مسٹر کوبرمین کے کمرے کا رخ کیا۔

آپ دادی کو نہیں بتائیے گا۔ وہ اسے پسند نہیں کریں گی۔“ ڈگلس نے کہا۔ اس نے دروازہ پورا کھولا۔ ”وہ دیکھیں۔

دادا نے حیرت سے سانس روک لی۔

ڈگلس کو زندگی بھر وہ آخری چند گھنٹے یاد رہے گے۔ کارونر (تفتیش کار) اور اس کا معاون مسٹر کوبرمین کے برہنہ جسم کے پاس کھڑے تھے۔ سیڑھیوں کے نیچے دادی کسی سے پوچھ رہی تھیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے؟

 

اور دادا کانپتی ہوئی آواز میں کہہ رہے تھے۔”میں ڈگلس کو لمبی چھٹیوں پر لے جاؤں گا۔ تاکہ وہ اس ڈراؤنے معاملے کو بھول جائے۔

ڈراؤنا؟ اس میں ڈراؤنا کیا ہے؟ میں نے تو ایسا کچھ نہیں دیکھا۔“ ڈگلس نے کہا۔

تفتیشی کار نے چونک کر کہا:”کوبرمین مر چکا ہے۔

معاون نے پسینہ صاف کیا اور بولا۔”میرے خدا کیا آپ نے برتنوں اور کاغذوں میں وہ چیزیں دیکھیں؟

ہاں، وہ بہت عجیب ہیں۔

تفتیش کار دوبارہ مسٹر کوبرمین کے جسم پر جھک گیا۔”یہ بات لوگوں سے خفیہ رکھنا بہتر ہے۔ یہ قتل نہیں ہے۔ لڑکے نے جو کیا وہ ایک رحم دلانہ عمل تھا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو خدا جانے کیا ہوتا۔

کوبرمین کیا تھا؟ ویمپائر یا عفریت؟

میں نہیں جانتا، لیکن ... انسان نہیں تھا۔“ تفتیش کار نے مہارت سے کی گئی سلائی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

ڈگلس کو اپنے کام پر فخر تھا۔ اس نے بہت محنت کی تھی۔ اپنی دادی کو غور سے دیکھا تھا، اسے سب کچھ یاد تھا۔ سوئی، دھاگہ اور سب۔ مجموعی طور پر مسٹر کوبرمین اتنی ہی صفائی سے سلے ہوئے تھے، جس طرح دادی مرغی کو بھرنے کے بعد سلائی کرتی تھیں۔

لڑکے کا کہنا ہے کہ کوبرمین ان چیزوں کو نکالنے کے بعد بھی زندہ تھے۔“ تفتیش کار نے پانی کے گھڑے میں تیرتے مثلثوں، زنجیروں، اہراموں کو دیکھتے ہوئے کہا۔

خدا رحم کرے۔ کیا لڑکے نے یہ کہا؟“ معاون بولا۔

ہاں۔

پھر کوبرمین کو کس چیز نے مارا؟

تفتیش کار سلائی ادھیڑنے لگا۔

یہ …“ اس نے کہا۔

معاون نے دیکھا۔ مسٹر کوبرمین کے ادھ کھلے سینے کے اندر چھ ڈالر اور ستر سینٹ مالیت کے چاندی کے ڈائمز، کھڑکی سے آنے والی سورج کی روشنی میں چمک رہے تھے۔

میرے خیال میں ڈگلس نے ایک دانش مندانہ سرمایہ کاری کی تھی۔“ تفتیش کار نے سینے کو واپس ٹانکے لگاتے ہوئے کہا۔

 

ختم شد۔

 

 

 

 

The Man Upstairs.

by Ray Bradbury.

 

 

مصنف کے بارے میں۔

رے براڈبری (1920-2012) وکیگن، الینوائے میں پیدا ہوا۔ لڑکپن میں وہ اپنے والدین کے ساتھ کیلیفورنیا چلا گیا تھا، جہاں اس نے لاس اینجلس ہائی اسکول سے گریجویشن کیا۔ وہ کالج کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر تھا، اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ایک اخبار فروش کے طور پر کیا۔ پہلی کہانی 1941 میں پلپ میگزین میں شائع ہوئی۔ اگلے سال براڈبری نے خود کو مکمل طور پر ادب کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی پہلی کتاب، مجموعہ ڈارک کارنیول (1947) تھی۔ اگلی دہائیوں میں، اس نے چھ سو سے زیادہ کہانیاں لکھیں اور ساٹھ کتابیں شائع کرائی۔ جن میں جدید ادب کی کلاسیک دی مارٹین کرانیکلز (1950)، دی الیسٹریٹڈ مین (1951)، فارن ہائیٹ 451 (1953)، اکتوبر کنٹری (1955) وغیرہ شامل تھیں۔ اس کے بہت سے کاموں کو ٹیلی ویژن کے لیے فلمایا گیا، 1980 میں راک ہڈسن کی اداکاری میں ایک منی سیریز میں بنائی گئی تھی۔ براڈ بری نے متعدد ایوارڈز حاصل کیے۔ کہانی "بالائی منزل کا مہمان" پہلی بار مارچ 1947 میں ہارپر میگزین میں شائع ہوئی تھی۔ رے براڈ بری 2012 میں اس دنیا سے رخصت ہوا۔

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ نمبر 688 : ہیڈ ماسٹر || تحریر : پی پدمراجو (بھارت) || اردو ترجمہ : حنظلة خلیق

افسانہ نمبر 711 :جرم و سزا، تحریر : آر کے نارائن (بھارت)، اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

افسانہ نمبر 684 : ایک اور زندگی || تحریر : موہن راکیش (بھارت)