افسانہ نمبر 664 : اور ہوا خاموش ہو گئی || تحریر : اُوما دیوی (بھارت) ||مترجم : عامر صدیقی
افسانہ نمبر 664 : اور ہوا خاموش ہو گئی (ہندی کہانی) تحریر : اُوما دیوی (بھارت) مترجم : عامر صدیقی (کراچی) رات گہری ہوتی جا رہی ہے اور میں بہتی جا رہی ہوں۔ تھم نہیں سکتی ہوں، کوئی سرائے میرے لئے نہیں بنی ہے۔ میرے لئے تو ہیں ارد گرد کے بکھرے مناظر۔ اب وہ چاہے جیسے بھی ہوں، ان سے نظریں نہیں پھیر سکتی میں۔ اپنے ساتھ لائی کچھ بھلی بری بوئوں کو ،راہ میں پھیلاتی جاتی ہوں تو وہاں موجودسناٹے اور شور کے ٹکڑوں کو سمیٹ لے جاتی ہوں۔ کچھ پرانے چیزیں پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ کھرچن کی طرح چپک جاتی ہیں، انہیں اتاریں تو بھی نشان رہ ہی جاتے ہیں۔ ان سے پیچھا چھڑانے کے لئے کچھ ایسا ہی کرتی ہوں میں، جیسا آپ پیتل کی کڑھائی کے ساتھ کرتے ہیں، قلعی کرواتے ہیں یا جیسے دیواروں کے ساتھ کرتے ہیں، نئے رنگ دھندلاہٹ کو چھپا دیتے ہیں۔ میں بھی نئی بوئوں کا لبادہ لپیٹ لیتی ہوں۔ اتنی گہرائی تک اترتی ہوں، جہاں تک کوئی پہنچ ہی نہیں پاتا، کوئی پہنچ بھی جائے تو پھر اسکی واپسی کبھی نہیں ہوتی ۔۔۔ پرمیری ہوتی ہے۔ جسم کی اندھی گلیوں میں اترتی ہوں۔ اندر کا زہر مجھ پر اثر نہیں کرتا۔ میں زند...