Posts

افسانہ نمبر 664 : اور ہوا خاموش ہو گئی || تحریر : اُوما دیوی (بھارت) ||مترجم : عامر صدیقی

Image
  افسانہ نمبر 664 :     اور ہوا خاموش ہو گئی (ہندی کہانی) تحریر : اُوما دیوی (بھارت) مترجم : عامر صدیقی (کراچی)   رات گہری ہوتی جا رہی ہے اور میں بہتی جا رہی ہوں۔ تھم نہیں سکتی ہوں، کوئی سرائے میرے لئے نہیں بنی ہے۔ میرے لئے تو ہیں ارد گرد کے بکھرے مناظر۔ اب وہ چاہے جیسے بھی ہوں، ان سے نظریں نہیں پھیر سکتی میں۔ اپنے ساتھ لائی کچھ بھلی بری بوئوں کو ،راہ میں پھیلاتی جاتی ہوں تو وہاں موجودسناٹے اور شور کے ٹکڑوں کو سمیٹ لے جاتی ہوں۔ کچھ پرانے چیزیں پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ کھرچن کی طرح چپک جاتی ہیں، انہیں اتاریں تو بھی نشان رہ ہی جاتے ہیں۔ ان سے پیچھا چھڑانے کے لئے کچھ ایسا ہی کرتی ہوں میں، جیسا آپ پیتل کی کڑھائی کے ساتھ کرتے ہیں، قلعی کرواتے ہیں یا جیسے دیواروں کے ساتھ کرتے ہیں، نئے رنگ دھندلاہٹ کو چھپا دیتے ہیں۔ میں بھی نئی بوئوں کا لبادہ لپیٹ لیتی ہوں۔ اتنی گہرائی تک اترتی ہوں، جہاں تک کوئی پہنچ ہی نہیں پاتا، کوئی پہنچ بھی جائے تو پھر اسکی واپسی کبھی نہیں ہوتی ۔۔۔ پرمیری ہوتی ہے۔ جسم کی اندھی گلیوں میں اترتی ہوں۔ اندر کا زہر مجھ پر اثر نہیں کرتا۔ میں زند...

افسانہ نمبر 663 : مشاہدہ || تحریر : گراهم گرین || مترجم : صغیر ملال

Image
انتخاب افسانہ نمبر 663 : مشاہدہ تحریر : گراهم گرین (برطانیہ) مترجم : صغیر ملال لندن کے اُس ریستوان میں جہاں میں اکثر جایا کرتا تھا۔ آج آٹھ جاپانی ایک میز کے گرد بیٹھے انگریزی کھانے میں مشغول تھے ۔ وہ آپس میں جاپانی زبان میں گفتگو کر رہے تھے جس کا ایک لفظ بھی سمجھنا میرے لیے ناممکن تھا۔ لیکن ان کے لبوں پر رقصاں دائمی مسکراہٹ اور ہر بات سے پہلے ادب سے جھک جانا اور دوسرے کا جواب سننے کے دوران مستقل تائید میں سر ہلاتے رہنا، مجھے بہت بھلا لگ رہا تھا۔ اُن آٹھ شائستہ اور مہذب جاپانی شہریوں میں سے سات نے عینکیں پہنی ہوئی تھیں۔ ریستواں کی کھڑکی کے ساتھ بیٹھی خوبصورت لڑکی وقفے وقعے سے ان جاپانیوں پر اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالتی، مگر اس لڑکی کو کوئی ایسا مسئلہ در پیش تھا جس کے سبب وہ اپنی ذات اور سامنے بیٹھے اپنے ساتھی کے علاوہ دنیا کی کسی چیز پر توجہ نہیں دے پارہی تھی ۔ لڑکی کے بال بھورے اور چہرے کے نقوش دل کش لطافت کے حامل تھے۔ اس کی شخصیت کا مجموعی تاثر نرم اور دھیما تھا، لہجے میں تندی اور جارحیت کی جھلک تھی جو کبھی کبھی مہم زیریں رو سے بڑھ جاتی ۔ ایسےموقعوں پر لڑکی کی باتوں میں تلخی کا عنصر نما...

افسانہ نمبر 662 : محبت نامہ || تحریر : جیفری آرچر || مترجم : محمد ظفر

Image
ا فسانہ نمبر 662 : محبت نامہ تحریر : جیفری آرچر (برطانیہ) مترجم : محمد ظفر مہمان اس وقت ناشتے کی میز پر بیٹھے تھے۔ ہورل آربرٹ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی ۔ اُس کے ہاتھ میں مارننگ پوسٹ کا تازہ شمارہ تھا۔ رسالے میں رکھا ہوا ایک لفافہ اُس نے نکالا اور معنی خیز نظروں سے اپنی سہیلی کی طرف دیکھتے ہوئے اُس کے سامنے رکھ دیا۔ اپنا کلیری مونٹ پریشان سی ہوگئی۔ وہ ہورل کی دعوت قبول کر چکی تھی اور آج ہی اُس کے گھر ہفتے بھر قیام کے لیے روانہ ہونا تھا۔ دوسرے ہی لمحے لفافے کی تحریر پہچان کر اُس کی اُلجھن دور ہوگئی۔ وہ اسے اپنے محبوب کی تحریر اچھی طرح پہچانتی تھی۔ معاً اُس کے چہرے پر خوف کی پر چھائیں اُبھری پھر وہ اپنے محبوب کی بے تابی کے خیال سے مسکرانے لگی۔ اُسے امید تھی کہ اس کے شوہر رابرٹ نے اس خط کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہوگا۔ رابرٹ میز کی آخری کرسی پر تھا اور ہمیشہ کی طرح ٹائمز اخبار کے مطالعے میں غرق تھا۔ اُدھر سے مطمئن ہو کر اینا نے لفافہ چاک کر لیا۔ وہ رابرٹ پر بھی نظر رکھے ہوئے تھی۔ رابرٹ نے جب بھی اُس کی طرف دیکھا، وہ جواباً مسکرادی۔ کھلا ہو ا لفافہ اور خط اُس کی گود میں تھا۔ آہستہ آہستہ ...