افسانہ نمبر 713 : بے لوث دوست، تحریر : آسکر وائلڈ (آئر لینڈ)، مترجم : عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی)
عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ) افسانہ نمبر 713 : بے لوث دوست تحریر : آسکر وائلڈ (آئر لینڈ) مترجم : عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی ) ایک صبح بوڑھے آبی چوہے نے اپنے بل سے منہ باہر نکالا ۔اس کی آنکھیں روشن چمکدار اور چھوٹی تھیں ۔ اس کی مونچھیں سخت اور سرمئی تھیں ۔ اور اس کی دم سیاہ ہندوستانی ربڑ جیسی تھی ۔چھوٹی بطخیں تالاب میں ادھر ادھر تیر رہی تھیں ۔ وہ بہت ساری پیلی چڑیوں جیسی نظر آ رہی تھیں ۔ ان کی ماں جو خالص سفید اور اس کی ٹانگیں سرخ تھیں ،ان کو پانی میں سر کے بل کھڑا ہونا سکھا رہی تھی ۔ “ تم کبھی بھی بہترین سماجی حیثیت حاصل نہیں کر سکتیں ،جب تک تمھیں اپنے سر کے بل کھڑا ہونا نہیں آتا”۔ وہ مسلسل انہیں یہی بات سمجھا رہی تھی ۔ساتھ ساتھ وہ انہیں اس کا عملی مظاہرہ کر کے دکھا رہی تھی ۔ لیکن چھوٹی بطخیں اس کی بات پر دھیان نہیں دے رہی تھیں ۔ وہ اس کچی عمر میں تھیں جس میں سماجی حیثیت کی اہمیت کا انہیں کچھ اندازہ نہیں تھا ۔ “ نا فرمانبردار بچے ! “ بوڑھے آبی چوہے نے چلا کر کہا ، “ یہ ڈبو ۓ جانے کے لائق ہ...