Posts

Showing posts from October, 2025

افسانہ نمبر 708 : لاولی ایکسٹینشن کا اجنبی || تحریر : آر کے نارائن (بھارت) || اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)

Image
    افسانہ نمبر 708 : لاولی ایکسٹینشن کا اجنبی تحریر : آر کے نارائن   (بھارت) اردو ترجمہ : رومانیہ نور (ملتان)     باتونی آدمی کہنے لگا: ’’بہت برس پہلے میری ایک دکان تھی۔ اُن دنوں ( Lawley extension ) لاولی ایکسٹینشن آج جیسا آباد علاقہ نہیں تھا ۔ وہاں سو سے بھی کم گھر ہوا کرتے تھے۔ چونکہ مارکیٹ روڈ کم از کم ایک میل دور تھا، اس لیے ایکسٹینشن کے لوگ مجھے نجات دہندہ سمجھنے لگے جب میں نے ایک چھوٹی سی عمارت لے کر ایک مبارک دن اس پر ایک بڑا سا بورڈ آویزاں کیا جس پر لکھا تھا: نیشنل پروویژن اسٹورز۔ میں خود گھر گھر گیا اور آرڈر لیے۔ میں نے حقیقتاً   ایکسٹینشن کے ہر گھر کی رسوئی جھانکی اور جہاں جہاں کمی دیکھی، وہاں سامان فراہم کیا۔ جب ایکسٹینشن ایلیمینٹری اسکول میں دوپہر کی چھٹی ہوتی تو بچے جوق در جوق میری دکان پر ٹوٹ پڑتے اور جو کچھ مٹھائیاں، ربنیں اور اسٹیشنری کی دلکش چیزیں میرے پاس ہوتیں، سب اُچک لے جاتے۔ میں روزانہ پچیس روپے کا اُدھار اور دس روپے نقد سودا کر لیتا تھا۔ اس سے کم از کم پچاس روپے مہینے کی آمدنی ہو جاتی تھی۔ ہم نے صرف پانچ روپے کرایے پر کبیر...

افسانہ نمبر 709 : بالائی منزل کا مہمان || تحریر : رے براڈ بری (امریکہ) || مترجم: جاوید بسام (کراچی)

Image
  عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)   افسانہ نمبر 709 : بالائی منزل کا مہمان تحریر : رے براڈ بری   (امریکہ) مترجم: جاوید بسام (کراچی)   اس کو یاد تھا کہ دادی کتنی احتیاط اور مہارت سے مرغی کا پیٹ چاک کرتی اور اپنا موٹا گداز ہاتھ اندر ڈال کر سب کچھ باہر نکالتی تھیں۔گوشت کی بُو دیتے، چمکتے، گیلی آنتوں کے حلقے، پٹھوں والا دل، اور معدہ جس میں بیجوں کا ذخیرہ ہوتا تھا۔ وہ بڑی صفائی اور خوبصورتی سے اپنا کام کرتیں، کچھ برتنوں میں اور کچھ کاغذ میں ڈال دیا جاتا جو بعد میں کتے کا رزق بنتا۔ پھر وہ عمل ہوتا جو ایک قسم کی ٹیکسیڈرمی معلوم ہوتا تھا، مرغی کو پانی میں بھیگی ہوئی، مصالحہ لگی بریڈ سے بھرنا اور چمکتے تیز دھاگے اور سوئی سے جراحی کرنا، ایک کے بعد ایک تنگ، مضبوط ٹانکا اور سلائی۔ یہ ڈگلس کی گیارہ سالہ زندگی کے سب سے سنسنی خیز نظاروں میں سے ایک تھا۔ اس نے دادی کے جادوئی باورچی خانے کی میز کی کھڑکھڑاتی درازوں میں مجموعی طور پر بارہ چھریاں گنی تھیں، جن میں سے ایک، یہ رسم ادا کرنے کے لیے دادی استعمال کرتی تھیں۔ وہ چڑیل جیسے سفید بالوں والی بوڑھی، مگر نرم اور مہربا...