افسانہ نمبر 673 : سائبان تلے || تحریر : نجیب محفوظ (مصر) || اردو ترجمہ : ڈاکٹر آصف فرخی
افسانہ نمبر 673 : سائبان تلے تحریر : نجیب محفوظ (مصر) اردو ترجمہ : ڈاکٹر آصف فرخی بادل آنا شروع اور پھر ایسے گھِر کے آئے جیسے رات چھائی جارہی ہو۔ پھر پھوار پڑنے لگی۔ سڑک کے اوپر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جس میں جس کی بو بسی ہوئی تھی۔ وہاں سے گزرنے والوں نے اپنی رفتار تیز کردی، سوائے اس گروہ کے جو بس اسٹاپ کے سائبان کے نیچے جمع ہو گیا تھا۔ اس منظر کا معمولی پن اس پر بے حس و حرکتی کا انجماد طاری کر دیتا، اگر ایک آدمی نہ ہوتا جو بغلی گلی سے پاگلوں کی طرح چیختا ہوا نکلا اور دوسری گلی میں گھس گیا۔ اس کے پیچھے پیچھے مردوں اور نوجوانوں کا ایک گروہ تھا جو زور زور سے چیخ رہا تھا، "چور۔۔۔۔ پکڑو چور کو!" یہ غل غپاڑا آہستہ آہستہ مدھم ہوا پھر اچانک غائب ہوا اور پھوار پڑتی رہی۔ سڑک خالی ہوگئی، یا اس طرح معلوم ہونے لگی اور رہے وہ لوگ جو سائبان کے تلے جمع ہو گئے تھے، ان میں سے کچھ تو بس کا انتظار کر رہے تھے اور کچھ صرف اس لیے وہاں آگئے تھے کہ بھیگنے سے بچ جائیں۔ اس پکڑا دھکڑی کا شور ایک بار پھر جاری ہو گیا اور قریب آنے لگا تو اس کی آواز بلند ہوتی گئی۔ تعاقب کرنے والے پھر سامنے آئے اور ...